کراچی(رپورٹنگ آن لائن) سندھ ہائی کورٹ بار ایسوسی ایشن کراچی نے عدلیہ کی آزادی، ججز کی تقرری و تبادلوں کے طریقہ کار اور حالیہ آئینی ترامیم کے تناظر میں گہرے تحفظات کا اظہار کرتے ہوئے ایک اہم قرارداد منظور کرلی ہے۔
بار ایسوسی ایشن نے اپنے اعلامیے میں کہا ہے کہ پاکستان کے آئین کے تحت آزاد عدلیہ جمہوری نظام اور آئین کی بالادستی کی بنیادی ضمانت ہے، تاہم حالیہ آئینی ترامیم اور بعض انتظامی اقدامات عدلیہ کی خودمختاری کو متاثر کرنے کا باعث بن رہے ہیں۔قرارداد میں کہا گیا کہ 26ویں اور 27ویں آئینی ترامیم کے بعد ججز کی تقرری، تبادلوں اور سروس اسٹرکچر سے متعلق ایسے اختیارات متعارف کرائے گئے ہیں جن سے عدلیہ پر انتظامیہ کے اثر و رسوخ میں اضافہ ہوسکتا ہے۔
بار ایسوسی ایشن کے مطابق یہ صورتحال عدلیہ کی غیرجانبداری اور عوامی اعتماد کے لیے نقصان دہ ثابت ہوسکتی ہے۔سندھ ہائی کورٹ بار نے خاص طور پر اسلام آباد ہائی کورٹ کے بعض ججز کے تبادلوں اور سینیارٹی کے معاملات پر بھی تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ ایسے اقدامات سے عدالتی نظام میں بے یقینی اور اضطراب پیدا ہورہا ہے۔ اعلامیے میں اس امر پر زور دیا گیا کہ ججز کی تقرری اور تبادلوں کا تمام عمل مکمل شفافیت، آئینی تقاضوں اور عدالتی روایات کے مطابق ہونا چاہیے۔
بار ایسوسی ایشن نے مزید کہا کہ عدلیہ کو انتظامیہ کے زیر اثر لانے کی کسی بھی کوشش کی وکلا برادری بھرپور مخالفت کرے گی، کیونکہ آزاد عدلیہ ہی شہریوں کے بنیادی حقوق کے تحفظ اور قانون کی حکمرانی کی ضامن ہے۔قرارداد میں وفاقی حکومت، پارلیمان اور متعلقہ اداروں سے مطالبہ کیا گیا کہ آئین کے بنیادی ڈھانچے، عدلیہ کی آزادی اور اختیارات کی تقسیم کے اصولوں کا مکمل احترام کیا جائے۔ سندھ ہائی کورٹ بار ایسوسی ایشن نے اس عزم کا اعادہ کیا کہ وکلا برادری عدلیہ کی آزادی، آئین کی بالادستی اور جمہوری اقدار کے تحفظ کے لیے اپنی جدوجہد جاری رکھے گی۔








