کراچی (رپورٹنگ آن لائن)پاکستان کے اوپنر بیٹر احمد شہزاد نے سرفراز احمد کو ٹیسٹ ٹیم کا ہیڈ کوچ بنائے جانے کی مخالفت کردی۔سماجی رابطے کی ویب سائٹ ایکس پر اوپنر بیٹر احمد شہزاد نے کہا کہ پاکستان کرکٹ میں ٹیلنٹ کی نہیں میرٹ کی کمی ہے، سرفراز احمد فرنچائز کرکٹ سے پاکستان کپ گئے پھر جونیئر کرکٹ میں بطور مینٹور اس کے بعد سلیکشن کمیٹی میں عہدہ دیا گیا اور اب انہیں بغیر کسی تجربے کے ہیڈ کوچ بنا دیا گیا ہے۔
انہوں نے کہا کہ سرفراز کے قریبی ساتھی پہلے ہی اسد شفیق خواتین کی ٹیم کے سلیکٹر کے طور پر خدمات انجام دے رہے ہیں اور کراچی اکیڈمی کا انتظام سنبھال رہے ہیں، انہیں اب بیٹنگ کوچ کے طور پر مقرر کردیا گیا ہے، وہ سلیکشن کمیٹی کے سیٹ اپ کا بھی حصہ ہیں۔قومی کھلاڑی نے کہا کہ یہ اوور لیپ ایک سنگین سوال اٹھاتا ہے کیا یہ پیشہ ورانہ نظام ہے یا بند نیٹ ورک؟احمد شہزاد نے لکھا کہ سعد بیگ ایک سیزن میں 1000رنز اسکور کیے ہیں، روحیل نذیر تیار ہونے کے باوجود سلیکشن کے منتظر ہیں اور شامل غازی غوری کو کیا جاتا ہے۔
سابق اوپنر بیٹر نے کہا کہ شان مسعود 32 سال کے قریب ہونے کے باوجود کپتان برقرار ہیں کارکردگی کا معیار کہاں ہے۔انہوں نے لکھا کہ کامران غلام کو ایک بار پھر نظر انداز کر دیا گیا ہے جبکہ آصف آفریدی آخری میچ کی شاندار کارکردگی کے بعد اب بھی ڈراپ ہیں۔ ابرار احمد کو بھی باہر رکھا گیا ہے، ڈومیسٹک کرکٹ میں ڈبل اور ٹرپل سنچریاں بنانے والی ہریرہ صرف دو مواقع ملنے کے بعد میدان سے باہر ہوگئے۔احمد شہزاد نے کہا کہ کسی بھی نظام میں جو چیز زیادہ اہمیت کی حامل ہوتی ہے وہ میرٹ ہے جس کا پاکستان کرکٹ میں واضح طور پر فقدان ہے۔









