جنگ 9

جاپانی سیاست دانوں کا جاپان کی شکست اور ہتھیار ڈالنے کے دن کے موقع پر “یاسوکونی شرائن” کا دورہ، چین کا سخت احتجاج

ٹو کیو (رپورٹنگ آن لائن) 15 اگست دوسری جنگ عظیم میں جاپان کی شکست اور ہتھیار ڈالنے کا دن ہے۔ جاپانی وزیرِاعظم سانائے تاکائچی کی جانب سے یاسوکونی شرائن کے لیے نذرانہ پیش کرنے اور کابینہ کے بعض ارکان کی جانب سے وہاں حاضری دینے کے حوالے سے چین کی وزارتِ خارجہ کے ترجمان نے کہا کہ چین جاپان کی یاسوکونی شرائن سے متعلق منفی سرگرمیوں کی سخت مذمت کرتا ہے اور اس معاملے پر جاپان سے باضابطہ احتجاج اور سخت مخالفت کا اظہار کیا گیا ہے۔

ترجمان نے کہا کہ دوسری جنگِ عظیم کے دوران جاپان نے بیرونی جارحیت کی جنگ شروع کی اور انسانیت سوز جرائم کا ارتکاب کیا۔ نام نہاد یاسوکونی شرائن جاپانی عسکریت پسندی کا ایک روحانی آلہ اور علامت ہے، جہاں جنگی مجرموں کی اعلیٰ ترین درجہ بندی میں شامل 14 افراد کی یاد میں رسومات ادا کی جاتی ہیں۔ یہ دراصل جنگی مجرموں کی یادگار ہے۔

انہوں نے کہا کہ جاپانی سیاست دان خواہ کوئی بھی جواز پیش کریں، وہ جنگی مجرموں کے جرائم سے انکار، جنگی ذمہ داریوں کو چھپانے، تاریخی حقائق کو مسخ کرنے اور دوبارہ عسکریت کی رفتار تیز کرنے کی راہ ہموار کرنے کے حقیقی عزائم کو نہیں چھپا سکتے۔اس طرح کے غلط اقدامات تاریخی انصاف کی توہین، تہذیبی اصولوں کو چیلنج اور جنگ کے بعد قائم بین الاقوامی نظام کے لیے اشتعال انگیزی ہیں، جن کی عالمی برادری متفقہ طور پر سخت مخالفت کرتی ہے۔

رواں سال ٹوکیو ٹرائل کے آغاز کو 80 سال مکمل ہو رہے ہیں۔ تاریخ کو درست طور پر سمجھنا اور اس کے ساتھ مناسب رویہ اختیار کرنا جاپان کے لیے جنگ کے بعد عالمی برادری میں دوبارہ واپسی کی اہم شرط، ہمسایہ ممالک کے ساتھ تعلقات کی سیاسی بنیاد اور اس بات کا اہم معیار ہے کہ جاپان پرامن ترقی کے اپنے وعدے پر کس حد تک قائم رہتا ہے۔

چین جاپان پر زور دیتا ہے کہ وہ اپنی جارحیت کی تاریخ پر گہری نظر ثانی کرے، عسکریت پسندی سے مکمل طور پر قطع تعلق کرے اور عملی اقدامات کے ذریعے ایشیائی ہمسایہ ممالک اور عالمی برادری کا اعتماد حاصل کرے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں