لاہور( رپورٹنگ آن لائن)نامور ماہر تعلیم رضا الرحمان کہا ہے کہ پیٹرولیم مصنوعات کے بحران میں سکولوں کی چھٹیوں کو 15 اپریل تک بڑھانے کی مجوزہ تجویز پر عملدرآمد سے وقتی طور پر تو فائدہ ہو سکتا ہے مگر اس کے اثرات طویل المدتی اور نقصان دہ ہو ں گے ،تعلیمی ادارے مسلسل بند رہیں تو نہ صرف طلبہ کی تعلیمی کارکردگی متاثر ہوتی ہے بلکہ ان کی ذہنی صحت اور مستقبل بھی خطرے میں پڑ جاتا ہے۔
اپنے بیان میں انہوں نے کہا کہ یہ حقیقت ہے کہ ملک کو اس وقت پیٹرولیم مصنوعات کے بحران کا سامنا ہے مگر کیا اس کا حل صرف تعلیم کو روک دینا ہے،کیا پیٹرول بچانے کے لیے بچوں کا مستقبل قربان کر دیا جائے ۔ انہوںنے تجویز دیتے ہوئے کہا کہ تعلیمی اداروں کی مکمل بندش کے بجائے ہائبرڈ تعلیمی نظام اپنایا جائے،ہفتے میں چار دن سکول جبکہ تین دن گھر سے تعلیم کا فارمولہ لاگو کیا جائے،یہ طریقہ نہ صرف پیٹرولیم مصنوعات کی بچت کرے گا بلکہ طلبہ کا تعلیمی تسلسل بھی برقرار رکھے گا۔
انہوںنے کہا کہ حکومت سے اپیل ہے کہ وہ اس معاملے کو سنجیدگی سے دیکھے اور ایسا حل نکالے جو بچوں کی تعلیم کو متاثر کیے بغیر بحران کا مقابلہ کر سکے۔اگر ہم نے آج تعلیم کو نظر انداز کیا تو کل ہمیں اس کی بہت بڑی قیمت چکانا پڑے گی جس کا ازالہ نا ممکن ہوگا۔








