اسلام آباد(رپورٹنگ آن لائن)وفاقی وزیر پارلیمانی امور ڈاکٹر طارق فضل چوہدری نے ایک بار پھرکہا ہے کہ ایک مستحکم،مضبوط اور خوشحال پاکستان کے تین نکاتی ایجنڈے پر سب کو مل بیٹھ کر بات کرنا ہوگی،ہمارے دروازے بات چیت کیلئے کھلے ہیں،کے پی میں گورنر راج 6 ماہ بعد اٹھا لیاجائے گا ،
امن قائم ہونے پر ایمرجنسی بھی اٹھا لیں گے،پاکستان کو غیر مستحکم کرنے میں کچھ ممالک دہشت گردوں کے معاون ہیں،ان میں بھارت اور افغانستان پیش پیش ہیں، ملک سے دہشت گردوں کے خاتمے کے لئے ایک پالیسی اختیار کرنی ہوگی، آزادکشمیر کے لوگ ہمارے دل کے قریب ہیں،انہیں تین روپے یونٹ بجلی اور دو ہزار روپے من آٹا مل رہا ہے،یہ ہمارے دور میں ہی ملا جسے جاری رکھیں گے،کشمیر اور پاکستان میں فاصلے پیدا نہیں ہونے دیں گے۔بدھ کو قومی اسمبلی میں مختلف ارکان کی جانب سے اٹھائے گئے نکتہ اعتراضات کا جواب دیتے ہوئے ڈاکٹر طارق فضل چوہدری نے کہا کہ دہشتگردی کا نشانہ بننے والوں کے گھر والوں سے جاکر اس کا دکھ اور کرب پوچھیں،دہشت گردی کے خاتمے کے لئے صوبائی حکومت اور سول انتظامیہ کا تعاون ہر صورت لازم تھا۔
انہوں نے کہا کہ کے پی مکمل گورنر راج اور پورے صوبے میں ایمرجنسی نافذ ہے،12 اضلاع میں وفاق سے معاونت براہ راست دینے کے لئے انہیں خصوصی حیثیت دی گئی۔انہوں نے کہا کہ پشاور کے دورے کے دوران وزیراعظم نے 160 ارب روپے کی گرانٹ کی منظوری دی۔انہوں نے کہا کہ اس گرانٹ سے پولیس کی استعداد کار میں اضافہ کیا جائے گا،12 اضلاع میں زیادہ پیسہ لگے گا۔انہوںنے کہاہک دہشت گردوں سے 4 سے 6 ماہ میں یہ علاقے کلیئر کرکے علاقے پولیس کے حوالے کریں گے۔انہوں نے کہا کہ 12 سال سے زائد پی ٹی آئی کی صوبے میں حکومت رہی اور آج یہ اپنے آپ کو معاشرے کا پسا ہوا طبقہ قراردے رہے جو ناکامی کا اعتراف ہے۔انہوں نے کہا کہ کے پی میں نظم و نسق امن کے لئے سنبھالا گیا ہے اسکو کسی اور چیز سے نہ جوڑیں،یہ غیر معمولی حالات میں غیر معمولی فیصلہ لیاگیا،کے پی کے امن سے پاکستان کا امن وابستہ ہے۔
انہوں نے کہا کہ افغان جہاد کے خاتمے کے بعد یہ عسکریت پسند کہاں تھے پھر ان کو واپس کس نے واپس لایا یہ دیکھنے کی ضرورت ہے ۔انہوں نے کہا کہ یہ نہیں ہوسکتا کہ تین صوبے سکیورٹی فورسز کے ساتھ اور ایک صوبے الگ چلے،ہم نے دوست ممالک کے ذریعے مذاکرات کرکے افغان حکومت کے سامنے سرحد پار سے دراندازی،دہشت گردوں کے تربیتی کیمپوں سمیت تمام ثبوت رکھے تاہم انہوں نے دہشت گردوں کی تربیت گاہوں کے خاتمے اور دراندازی روکنے کی بات مانتے ہوئے اس کے خلاف کارروائی سے انکار کیا۔انہوںنے کہاکہ ہم آج بھی کہتے ہیں کہ افغانستان اپنی ذمہ داری کا احساس کرے،دہشت گردوں کے محفوظ ٹھکانے ختم اور در اندازی بند کرائے۔انہوں نے کہا کہ ملک سے دہشت گردوں کے خاتمے کے لئے ایک پالیسی اختیار کرنی ہوگی۔
انہوں نے کہا کہ یہاں کہا گیا کہ بلوچستان میں حالات زیادہ خراب ہیں تاہم یہاں وہاں کوئی ایسا اقدام نہیں اٹھایا گیا، صورتحال یہ ہے کہ بلوچستان میں وزیراعلی وفاق سے آگے بڑھ کر دہشت گردوں کے خلاف سینہ سپر ہیں،وہاں کا جغرافیہ الگ ہے،وہاں آبادی کم ہے دہشت گرد پہاڑوں سے اتر کر دہشت گردی کی کارروائی کرکے واپس پہاڑوں پر چلے جاتے ہیں،وہاں فنڈڈ دہشت گردی ہے ہمیں پتہ ہے کہ کون کون سے ملک وہاں عسکریت پسندوں کو معاونت اور امداد دے رہے ہیں،ان میں انڈیا سرفہرست ہے، افغانستان پاکستان میں امن و امان تباہ کرنے میں افغانستان سرفہرست ہے۔ہم سب کو اس کاعلم ہے لیکن اپنے اداروں پر الزام تراشی شوق ہے۔انہوں نے کہا کہ سب کا برابر حقوق کا خیال رکھنا ریاست کی ذمہ داری ہے اور ریاست کی تمام اکائیوں کو بھی ان کاساتھ دینا چاہیے۔انہوں نے کہا کہ کشمیر اور معدنی وسائل پر بات ہوئی،حالات کی سنگینی کو معدنی ذخائر پر قبضے کی بات کرکے اہم معاملہ سے توجہ نہ ہٹائی جائے۔امریکی کمپنیاں معدنی ذخائر کی تلاش میں معاونت کی پیش کش کرچکی ہے وہ پوری دنیا میں اس پر کام کررہے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ ریجن میں بدامنی سے ہم متاثر ہوا امریکہ میں پٹرول،ڈیزل کی قلت نہیں پیدا ہوئی وہ ہمارے ذخائر پر نظر کیوں رکھیں گے،یہ معدنی ذخائر پر صوبے کا حق ہے یہ 80 سال سے دفن ہیں،صوبے اپنے وسائل پیداکریں کسی صوبے کی کسی دوسرے صوبے کے وسائل پر نظر نہیں۔ انہوں نے کہا کہ کے پی میں 6 ماہ میں گورنر راج ختم اور امن کے قیام پر ایمرجنسی ختم کردیں گے۔انہوں نے کہا کہ آزادکشمیر کے لوگ ہمارے دل کے قریب ہیں،انہیں تین روپے یونٹ بجلی اور دو ہزار روپے من آٹا مل رہا ہے،یہ ہمارے دور میں ہی ملا جسے جاری رکھیں گے،کشمیر اور پاکستان میں فاصلے پیدا نہیں ہونے دیں گے،90 فیصد کشمیری نہیں چاہتے۔
انہوں نے کہا کہ آئیں مل بیٹھ کر بات کریں،مذاکرات سے راستہ نکالیں،اس میں تین نکات ہیں جن میں پہلا نکتہ مستحکم پاکستان،دوسرا دہشت گردی کا خاتمہ کرکے محفوظ پاکستان اور تیسرا معیشت کو مضبوط بناکر خوشحال پاکستان بنائیں،یہی محفوظ راستہ ہے،وزیر اعظم ہمیشہ سب کو ساتھ کے کر چلنے کی بات کرتے ہیں،اسی وزیراعظم کی سیٹ میں عمران خان تھے تو قائد حزب اختلاف سے آنکھیں چار نہ ہونے اور ہاتھ ملانے سے بچنے کے لئے سیٹیں پھلانگتے آتے تھے۔









