مسعود پزشکیان 9

امریکا کے ساتھ براہ راست بات اعتماد کے شدید فقدان کے باعث ممکن نہیں: ایرانی صدر

تہران (رپورٹنگ آن لائن) ایرانی صدر مسعود پزشکیان نے کہا ہے کہ امریکا کے ساتھ براہ راست مذاکرات اعتماد کے شدید فقدان کے باعث ممکن نہیں ہیں۔

ایرانی صدر مسعود پزشکیان نے سی بی این نیوز کو انٹرویو میں کہا کہ امریکا ایرانی شرائط تسلیم کرے تو 7 روز کے اندر آبنائے ہرمز دوبارہ کھول دیں گے، ایران نے امریکا کو ثالثوں کے ذریعے تجویز پیش کی ہے،منظوری کے فوراً بعد عمل درآمد شروع ہوسکتا ہے۔

مسعود پزشکیان نے کہا کہ اسلام آباد مفاہمتی سمجھوتے کو بنیاد بنایا جاسکتا ہے، پہلے ان رکاوٹوں کو دور کیا جائے جو آبنائے ہرمز کے راستے میں حائل ہیں، آبنائے ہرمز کی ناکہ بندی ختم ہونے کے بعد دیگر معاملات پر مذاکرات ہوسکتے ہیں۔انہوں نے کہا کہ ایران اگر کوئی وعدہ کرے گا تو اسے نبھائے گا، امریکا کے ساتھ جوہری پروگرام پر پابندیوں کے حوالے سے مذاکرات کیلئے تیار ہیں، جوہری پروگرام مکمل طور پر ختم کرنے کا سوال ہی پیدا نہیں ہوتا۔

انہوں نے مزید کہا کہ جوہری عدم پھیلاؤ کے معاہدے کے دائرہ کار میں ایرانی جوہری پروگرام حدود طے کی جا سکتی ہیں، جوہری تنصیبات کے معائنے سے متعلق نئے انتظامات پر بھی اتفاق ممکن ہے، امریکا کے ساتھ براہ راست ملاقات اعتماد کے شدید فقدان کے باعث ممکن نہیں۔

ایرانی صدر نے کہا کہ مذاکرات کے دوران امریکا اور اسرائیل کے حملوں نے باہمی اعتماد کو مزید نقصان پہنچایا، امریکا کو یہ یقین دہانی کرانا ہوگی کہ اس کا مقصد ایرانی حکومت کا تختہ الٹنا نہیں ہے، ایران جنگ نہیں چاہتا، تاہم حملے کی صورت میں اپنے دفاع کا حق استعمال کرے گا۔

انہوں نے کہا کہ امریکی پابندیاں ایرانی عوام کیلئے مشکلات کا باعث بن رہی ہیں، تہران دباؤ اور دھمکی کے ذریعے کسی معاہدے کو قبول نہیں کرے گا، امریکا تحریری معاہدوں اور وعدوں پر عمل کرے تو مذاکرات کے ذریعے اعتماد بحال کیا جاسکتا ہے۔ایرانی صدر نے کہا کہ ایران اپنے ہمسایہ ممالک کے ساتھ مل کر خطے کو ترقی دینے کیلئے تیار ہے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں