خواجہ سعد رفیق 18

گلگت بلتستان انتخابات،مسلم لیگ (ن) کی شکست کا تاثر درست نہیں’خواجہ سعد رفیق

لاہور (رپورٹنگ آن لائن)سابق وفاقی وزیر وپاکستان مسلم لیگ (ن) کے سینئر رہنما خواجہ سعد رفیق نے گلگت بلتستان کے حالیہ انتخابات کے نتائج پر تبصرہ کرتے ہوئے کہا ہے کہ سوشل اور الیکٹرانک میڈیا پر مسلم لیگ (ن) کو بڑی شکست ہونے کا تاثر بالکل درست نہیں ہے۔

انہوں نے اپنے ردعمل کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ مسلم لیگ (ن) نے چھ نشستیں جیتی ہیں جبکہ ہمارے حمایت یافتہ دو آزاد امیدوار ڈاکٹر اسد شفیق (گھانچے )جی بی 24 اور سیٹھ انور (گھانچے )جی بی 23کامیاب ہوئے ہیں ، پیپلزپارٹی 10اور مسلم لیگ (ن) 8کے نمبرز پر کھڑی ہے ۔خواجہ سعد رفیق نے کہا کہ پیپلز پارٹی نے انتخابی مہم ہم سے بہت پہلے شروع کی،

گلگت بلتستان میں انکا تنظیمی ڈھانچہ ہم سے بہتر تھا، انکی مرکزی قیادت وہاں دو ماہ سے مصروف عمل تھی ، انکی مرکزی قیادت کی جانب سے مہیا کردہ اخراجات کا بے محابا استعمال کیا گیا،انہیں اخراجات کی کوئی فکر نہیں تھی جبکہ مسلم لیگ (ن) حسب ِ روایت کافی تاخیر سے حرکت میں آئی ، کوئی پارٹی فنڈ دستیاب نہیں تھا، مقامی اندرونی گروپنگ نے پہلے ہی صورتحال کمزور کر رکھی تھی جسکی طرف مرکز نے کبھی خاطر خواہ توجہ نہیں دی ، امیدوار موجود تھے لیکن الیکٹیبلز s بہت کم تھے ،پی ٹی آئی کے ووٹرز کی بڑی تعداد نے اپنی جماعت کو میدان میں نہ پا کر مسلم لیگ (ن) کی بجائے پیپلز پارٹی کو ووٹ دیا ۔

انہوں نے مزید کہا کہ بڑھتی ہوئی مہنگائی نے بھی مسلم لیگ (ن) کی مقبولیت پر اثر ڈالا ، اس سب کے باوجود آٹھ نشستیں جیت لینا، کامیاب عوامی جلسے ، ریلیز ، کارنر میٹنگز کا انعقاد کیا گیا جن میں ہزاروں افراد نے شرکت کی ، تقریباً ہر حلقے میں موثر انتخابی مہم چلا کر متاثر کن ووٹ حاصل کرنا بڑی کامیابی ہے ،ہمارے چند امیدوار بہت ہی کم مارجن سے ہارے ۔

برادرم امیر مقام ، کیپٹن صفدر ، مرتضیٰ جاوید عباسی ، ڈاکٹر عباد ، عابد رضا کوٹلہ خصوصی شاباش کے مستحق ہیں ، یہ لوگ دن رات محنت کرتے رہے۔خواجہ سعد رفیق نے مزید کہا کہ میری رائے میں پارلیمانی نظام چلانے کیلئے مسلم لیگ (ن) حکومت سازی میں پاکستان پیپلز پارٹی سے تعاون کرے لیکن کوئی وزارت نہ لے ،گلگت بلتستان میں مسلم لیگ (ن) کے لئے اپوزیشن کا کردار ادا کرنا زیادہ بہتر ہو گا ۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں