کراچی(رپورٹنگ آن لائن)ترجمان سندھ حکومت سعدیہ جاوید نے کہا ہے کہ کراچی کی چابی مانگنے والے شہر کو دوبارہ تقسیم اور لسانی سیاست کی طرف دھکیلنا چاہتے ہیں، تاہم کراچی کے عوام اب کسی سیاسی بلیک میلنگ کا شکار نہیں ہوں گے۔
اپنے بیان میں سعدیہ جاوید نے کہا کہ ٹاؤنز اور ڈویڑنز کا راگ الاپنے والے دراصل کراچی کو دوبارہ تقسیم اور لسانی سیاست کی طرف دھکیلنا چاہتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ملک بچانے کے نعرے لگانے والوں کا اصل مقصد اپنی گرتی ہوئی سیاست کو سہارا دینا اور آئندہ بلدیاتی انتخابات میں سیاسی فائدہ حاصل کرنا ہے۔ترجمان سندھ حکومت نے کہا کہ بلدیاتی نظام پر لیکچر دینے والے پہلے اپنے دورِ میئرشپ اور مالی معاملات سے متعلق اٹھنے والے سوالات کے جواب دیں۔
سندھ کو تقسیم کرنے کے خواب دیکھنے والے جان لیں کہ صوبے کی وحدت اور سرحدیں ناقابلِ تقسیم ہیں۔سعدیہ جاوید نے کہا کہ آئین کے آرٹیکل 140ـاے اور عدالتی فیصلوں کی من پسند تشریح کرنے والے اپنی قانونی معلومات درست کریں۔ سندھ حکومت آئینی تقاضوں کے مطابق بلدیاتی نظام سے متعلق اقدامات کررہی ہے۔انہوں نے کہا کہ سندھ حکومت نے کراچی کو کھربوں روپے کے ترقیاتی اور میگا منصوبے دیے ہیں۔ ترقیاتی منصوبوں پر فوٹو سیشن اور سیاست چمکانے سے حقائق تبدیل نہیں ہوسکتے۔ سندھ کے بجٹ پر انگلی اٹھانے والے پہلے یہ بتائیں کہ وفاقی حکومتوں کا حصہ رہتے ہوئے انہوں نے کراچی کے لیے عملی طور پر کیا اقدامات کیے۔
ترجمان نے کہا کہ پیپلز پارٹی شہری اور دیہی سندھ کی یکساں ترقی پر یقین رکھتی ہے اور صوبے کے اضلاع اور بلدیاتی اداروں کو وسائل فراہم کررہی ہے۔ کراچی کے عوام باشعور ہیں اور نفرت، لسانیت اور محرومی کی سیاست کے ذریعے انہیں مزید گمراہ نہیں کیا جاسکتا۔سعدیہ جاوید نے مزید کہا کہ فوج اور ریاستی اداروں کا نام سیاسی مقاصد کے لیے استعمال کرنے کا پرانا اسکرپٹ اب نہیں چلے گا۔ سیاسی جماعتوں کو چاہیے کہ وہ ریاستی اداروں کو سیاست میں گھسیٹنے کے بجائے عوامی مسائل کے حل پر توجہ دیں۔









