ڈاکٹر عشرت العباد خان 14

کراچی کو جائز حقوق سے محروم رکھنا پاکستان کی معیشت کو کمزور کرنے کے مترادف ہے ،ڈاکٹر عشرت العباد

کراچی (رپورٹنگ آن لائن)میری پہچان پاکستان کے روحِ رواں، سابق گورنر سندھ ڈاکٹر عشرت العباد خان نے کہا ہے کہ کراچی کو اس کے جائز حقوق سے محروم رکھنا دراصل پاکستان کی معیشت کو کمزور کرنے کے مترادف ہے۔ انہوں نے کہا کہ کراچی ملک کا معاشی مرکز ہے، لیکن افسوس کے ساتھ کہنا پڑتا ہے کہ وفاقی بجٹ 2026-27 میں شہر کو اس کی اہمیت کے مطابق وسائل اور ترقیاتی فنڈز نہیں دیے گئے۔

ایم پی پی کی ایڈوائزری کونسل، معاشی ماہرین کی کمیٹی اور مرکزی کمیٹی کے مشترکہ اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ کراچی سے منتخب ارکان اسمبلی عوام کو جواب دیں کہ اگر وہ شہر کو اس کا حق نہیں دلا سکتے تو اسمبلی میں ان کی موجودگی کا مقصد کیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ کراچی کے لیے 25 ارب روپے کے مطالبات کے باوجود صرف محدود فنڈز دینا شہر کے ساتھ ناانصافی ہے۔ڈاکٹر عشرت العباد خان نے کہا کہ وفاقی بجٹ محض اعداد و شمار کا مجموعہ ہے، جبکہ عوام کو مہنگائی، بے روزگاری اور معاشی مشکلات سے نکالنے کے لیے عملی اور موثراقدامات درکار ہیں۔ انہوں نے کہا کہ مہنگائی کی موجودہ شرح کے باوجود سرکاری ملازمین کی تنخواہوں میں خاطر خواہ اضافہ نہ کرنا اور مزدور طبقے کو ریلیف نہ دینا تشویشناک ہے۔انہوں نے مطالبہ کیا کہ کم از کم ماہانہ اجرت 65 ہزار روپے مقرر کی جائے اور سرکاری ملازمین کی تنخواہوں میں کم از کم 50 فیصد اضافہ کیا جائے۔ انہوں نے صدر آصف علی زرداری سے اپیل کی کہ وہ ماضی کی طرح ملازمین کو ریلیف دلانے اور روزگار کے مواقع پیدا کرنے میں اپنا کردار ادا کریں۔ڈاکٹر عشرت العباد خان نے کہا کہ ایم کیو ایم نے جن وعدوں اور نعروں کی بنیاد پر عوام سے ووٹ حاصل کیے تھے، ان پر عملدرآمد کروانا بھی اس کی ذمہ داری ہے۔ 140-A کے مکمل نفاذ، بلدیاتی اختیارات کی منتقلی، انتظامی اصلاحات اور شہری سندھ کے حقوق کے لیے عملی اقدامات کیے جائیں۔ انہوں نے کہا کہ صرف اقتدار میں شامل ہونا کافی نہیں بلکہ عوام سے کیے گئے وعدے پورے کرنا بھی ضروری ہے۔

انہوں نے کہا کہ پیپلز پارٹی کو گلگت بلتستان اور دیگر سیاسی معاملات کے ساتھ کراچی اور حیدرآباد کے عوامی مسائل پر بھی توجہ دینی چاہیے۔ شہری سندھ کو مسلسل نظر انداز کرنا مناسب نہیں اور نہ ہی ترقیاتی وسائل کی غیر منصفانہ تقسیم قابل قبول ہے۔ڈاکٹر عشرت العباد خان نے کہا کہ 18ویں ترمیم کے بعد کراچی کو متعدد انتظامی اور مالی مشکلات کا سامنا ہے جن کے حل کے لیے سنجیدہ اصلاحات کی ضرورت ہے۔ انہوں نے کہا کہ کراچی کو ہمیشہ وفاقی فنڈز، خصوصی توجہ اور بڑے ترقیاتی منصوبوں کے ذریعے ترقی ملی اور آج بھی اسی طرز کی سوچ کی ضرورت ہے۔انہوں نے میڈیا انڈسٹری میں جاری ڈان سائزنگ، صحافیوں کو درپیش مسائل اور اظہارِ رائے پر دبا کے حوالے سے تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ میڈیا کی آواز دبانا بند کیا جائے۔

حقائق بیان کرنے والوں اور عوامی مسائل اجاگر کرنے والوں کو نوٹسز اور دبا کا سامنا نہیں ہونا چاہیے۔ڈاکٹر عشرت العباد خان نے کہا کہ ایم پی پی احتجاج برائے احتجاج کی سیاست پر یقین نہیں رکھتی، تاہم عوامی حقوق، انصاف اور وسائل کی منصفانہ تقسیم کے لیے ہر آئینی، قانونی اور جمہوری فورم پر آواز بلند کرتی رہے گی۔ انہوں نے خبردار کیا کہ عوامی مسائل کو مسلسل نظر انداز کرنے سے عوامی بے چینی میں اضافہ ہو سکتا ہے۔انہوں نے کہا کہ ایم پی پی کا نظریہ “پہلے ریاست، بعد میں سیاست” ہے اور پاکستان کی سلامتی، استحکام اور ترقی کے لیے ہر ممکن کردار ادا کیا جاتا رہے گا۔ انہوں نے کارکنان کو ہدایت کی کہ سرکاری و نجی اداروں، ٹانز اور یونین کونسلز کی سطح پر تنظیمی ڈھانچے کو مزید فعال بنایا جائے اور عوامی خدمت کا دائرہ وسیع کیا جائے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں