محکمۂ دفاع 17

چین کا “نیو نیو ٹریو” روبوٹکس، مصنوعی ذہانت اور اختراعی ادویات ، دنیا بھر میں مقبول ہو رہا ہے، رپورٹ

بیجنگ (رپورٹنگ آن لائن ) آج کل روبوٹکس، مصنوعی ذہانت اور اختراعی ادویات پر مشتمل چین کا “نیو نیو ٹریو” دنیا بھر میں تیزی سے مقبول ہو رہا ہے اور چین کی بیرونی تجارت کی نئی پہچان بنتا جا رہا ہے۔

چین کی برآمدات کی “پسندیدہ لسٹ” میں آنے والی تبدیلیاں صنعتی اپ گریڈیشن کا ایک واضح ثبوت ہیں۔اصلاحات اور کھلے پن کے ابتدائی دور میں ملبوسات، فرنیچر اور گھریلو آلات پر مشتمل “پرانا ٹریو” اپنی کم لاگت اور افرادی قوت کی بدولت عالمی منڈیوں میں نمایاں ہوا۔ بعد ازاں نئی توانائی سے چلنے والی گاڑیاں، لیتھیم بیٹریاں اور شمسی پینلز پر مشتمل “نیو ٹریو” نے چین کی سبز صنعتی ترقی کو دنیا کے سامنے پیش کیا۔ اب چین نے روبوٹکس، مصنوعی ذہانت اور اختراعی ادویات پر مشتمل “نیو نیو ٹریو” متعارف کرایا ہے، جو اس بات کا واضح اشارہ ہے کہ “میڈ اِن چائنا” اب “کریئیٹڈ اِن چائنا” کی جانب تیزی سے آگے بڑھ رہا ہے۔

رواں سال کی پہلی ششماہی میں چین کی صنعتی روبوٹس کی برآمدات میں 18.6 فیصد اضافہ ہوا اور یہ 141 ممالک اور خطوں تک پہنچ گئیں۔ سرجیکل روبوٹس کی برآمدات میں سال بہ سال 3.3 گنا اضافہ ریکارڈ کیا گیا۔ عالمی اے آئی ماڈل ایگریگیشن پلیٹ فارم OpenRouter کے مطابق، جولائی کے تیسرے ہفتے چینی بڑے اے آئی ماڈلز کا ہفتہ وار استعمال 36.11 ٹریلین ٹوکنز تک پہنچ گیا، جو مسلسل بارہویں ہفتے دنیا میں پہلے نمبر پر رہا۔ اسی طرح رواں سال کی پہلی ششماہی میں چین کی اختراعی ادویات کی بیرونی لائسنسنگ ڈیلز کی مالیت تقریباً 110 ارب امریکی ڈالر رہی، جو گزشتہ پورے سال کی مجموعی مالیت کا تقریباً 80 فیصد بنتی ہے۔ عالمی ادویات کی دس بڑی ڈیلز میں سے آٹھ چینی کمپنیوں کے حصے میں آئیں۔” نیو نیو ٹریو” کی زبردست ترقی ، اس حقیقت کو اجاگر کرتی ہیں کہ چین اب صرف “دنیا کی فیکٹری” نہیں بلکہ “عالمی جدت کا مرکز” بنتا جا رہا ہے۔

یہ “نیو نیو ٹریو” نہ صرف چینی معیشت کو نئی توانائی فراہم کر رہا ہے بلکہ دیگر ممالک کی ترقی میں بھی اہم کردار ادا کر رہا ہے۔ مورگن اسٹینلے کی ایک رپورٹ کے مطابق، اگر چین سپلائی چین کا حصہ نہ ہو تو ٹیسلا کے انسان نما روبوٹ “آپٹیمس جنریشن 2” کی تیاری کی لاگت کئی گنا بڑھ جائے۔ مصنوعی ذہانت کے شعبے میں چین کا اوپن سورس ماحولیاتی نظام دنیا بھر کی چھوٹی کمپنیوں اور ترقی پذیر ممالک کو کم لاگت پر جدید کمپیوٹنگ صلاحیتوں تک رسائی فراہم کر رہا ہے۔

طبی شعبے میں بھی چین نے آزاد تحقیق، جدید ٹیکنالوجی اور ڈیجیٹل پیداوار کے ذریعے ادویات کی تیاری کا وقت اور لاگت نمایاں طور پر کم کر دی ہے۔ فرانسیسی اخبار کے مطابق، مکمل صنعتی نظام، مربوط سپلائی چین اور بڑے پیمانے پر پیداوار کی بدولت چینی اختراعی ادویات کی قیمتیں اکثر یورپی اور امریکی متبادل ادویات کے مقابلے میں کہیں کم ہوتی ہیں۔ بعض کینسر کی ادویات کو فرانسیسی ہیلتھ انشورنس میں شامل کیے جانے سے فی مریض سالانہ ہزاروں یورو کی بچت ممکن ہوئی۔

چین کا “نیو نیو ٹریو” جدید ٹیکنالوجی کو زیادہ قابلِ رسائی بنا رہا ہے اور جدید سائنسی و تکنیکی کامیابیوں کے ثمرات دنیا کے ساتھ بانٹنے میں اہم کردار ادا کر رہا ہے۔ بالخصوص گلوبل ساؤتھ کے ممالک کے لیے یہ پیش رفت معاشی ترقی، صنعتی جدیدکاری اور عوامی فلاح و بہبود کے نئے مواقع فراہم کر رہی ہے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں