چین 14

چین اور امریکہ کے درمیان مسابقت ایک حقیقت ہے، چینی میڈیا

بیجنگ (رپورٹنگ آن لائن) چین کی وزارتِ تجارت اور دیگر متعلقہ اداروں نے امریکی فیڈرل کمیونیکیشنز کمیشن اور امریکی محکمۂ ہوم لینڈ سیکیورٹی کی جانب سے چین کے خلاف کیے گئے منفی اقدامات کے جواب میں جوابی اقدامات کا اعلان کیا۔

گزشتہ سال اکتوبر کے آخر میں بوسان میں ہونے والے چین-امریکہ سربراہی اجلاس کے بعد سے امریکی فیڈرل کمیونیکیشنز کمیشن مسلسل چین پر پابندیاں عائد کر رہا ہے۔ جولائی کے آخر میں اس نے جدید روبوٹکس آلات اور پاور اِنورٹرز کی درآمد پر بھی پابندیاں نافذ کیں۔ ایک ہی ماہ میں امریکی محکمۂ ہوم لینڈ سیکیورٹی نے نام نہاد “ویغور جبری مشقت کی روک تھام ایکٹ” کی فہرست میں 40 سے زائد چینی اداروں کو شامل کرتے ہوئے بے بنیاد الزامات کی آڑ میں چین پر معاشی دباؤ بڑھانے کی کوشش کی۔ امریکہ کی جانب سے مسلسل یکطرفہ اور غیر منصفانہ اقدامات کے پیشِ نظر چین کے جوابی اقدامات ناگزیر تھے۔

چین اور امریکہ کے درمیان استحکام پر مبنی تعمیری اسٹریٹجک  تعلقات برقرار رکھنے کی بنیاد دونوں سربراہانِ مملکت کے درمیان طے پانے والے اہم اتفاقِ رائے پر عمل درآمد اور باہمی مسابقت کو درست انداز میں دیکھنے میں مضمر ہے۔ دونوں ممالک کے درمیان مسابقت ایک حقیقت ہے  لیکن ایک دوسرے کی کمپنیوں اور صنعتوں پر بلا جواز پابندیاں عائد  کرنا کسی صورت درست نہیں بلکہ یہ منصفانہ اصولوں پر قائم ہونی چاہیے۔

امریکہ کی جانب سے مسلسل تحفظ پسند اقدامات کے باوجود رواں سال کی پہلی ششماہی میں چین اور امریکہ کے درمیان اشیاء کی تجارت کا حجم 2 ٹریلین یوآن تک پہنچ گیا، جبکہ دوسری سہ ماہی میں اس میں سال بہ سال 13.7 فیصد اضافہ ریکارڈ کیا گیا، جو دوطرفہ اقتصادی تعلقات کی مضبوط لچک کا مظہر ہے اور اعداد و شمار بھی یہی حقیقت بیان کرتے ہیں۔ اس وقت امریکہ میں 7,000 سے زائد چینی کمپنیاں سرگرم ہیں، جبکہ چین میں تقریباً 80,000 امریکی کمپنیاں سرمایہ کاری کر رہی ہیں۔ چائنا انٹرنیشنل امپورٹ ایکسپو میں امریکی کمپنیوں کے نمائشی رقبے نے مسلسل سات برس سے پہلی پوزیشن برقرار رکھی ، جبکہ چائنا انٹرنیشنل سپلائی چین ایکسپو میں بھی غیر ملکی نمائش کنندگان میں امریکی کمپنیوں کی تعداد سب سے زیادہ رہی ہے۔

چین اور امریکہ کے درمیان استحکام پر مبنی تعمیری اسٹریٹجک  تعلقات کا فروغ نہ صرف دونوں ممالک کے مفاد میں ہے بلکہ عالمی برادری کی مشترکہ توقعات کے بھی عین مطابق ہے۔ تاہم اگر امریکہ چین کے خلاف نئی پابندیاں عائد کرنے پر بضد رہا تو چین اپنے جائز حقوق و مفادات کے تحفظ کے لیے ضروری اور مؤثر جوابی اقدامات جاری رکھے گا۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں