حلیم عادل شیخ 23

پاکستان کا مجموعی سرکاری قرض 49.3 ٹریلین سے بڑھ کر 86.7 ٹریلین روپے ہوگیا، حلیم عادل شیخ

کراچی (رپورٹنگ آن لائن) پاکستان تحریک انصاف سندھ کے صدر حلیم عادل شیخ نے ملک کے بڑھتے ہوئے سرکاری قرضوں اور زرمبادلہ کے انتظام سے متعلق اعداد و شمار پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ 2022 سے جون 2026 تک پاکستان کا مجموعی سرکاری قرض 49.3 ٹریلین روپے سے بڑھ کر 86.7 ٹریلین روپے ہوگیا، جو چار سال کے دوران تقریباً 76 فیصد اضافہ ظاہر کرتا ہے۔حلیم عادل شیخ نے کہا کہ قیامِ پاکستان سے 2022 تک ملک کا مجموعی سرکاری قرض تقریباً 49.3 ٹریلین روپے تک پہنچا تھا، جبکہ 2022 سے جون 2026 کے دوران یہ بڑھ کر 86.7 ٹریلین روپے ہوگیا۔ ان کے مطابق قرضوں میں اس اضافے نے ملکی معیشت، مالیاتی پالیسی اور مستقبل میں قرضوں کی ادائیگی سے متعلق اہم سوالات کھڑے کردیے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ قرضوں کے حجم میں اضافے کے ساتھ ان پر سود اور دیگر ادائیگیوں کے لیے درکار وسائل بھی ایک بڑا چیلنج ہیں۔ حکومت کو عوام کے سامنے واضح کرنا چاہیے کہ حاصل کیے گئے قرضوں کو کن شعبوں میں استعمال کیا گیا، ان سے معیشت کو کیا فائدہ پہنچا اور مستقبل میں قرضوں کی ادائیگی کے لیے کیا حکمت عملی اختیار کی گئی ہے۔پی ٹی آئی سندھ کے صدر نے دعویٰ کیا کہ اسٹیٹ بینک آف پاکستان نے گزشتہ چار سال کے دوران انٹربینک مارکیٹ سے تقریباً 30 ارب ڈالر خریدے، جن میں سے لگ بھگ 12 ارب ڈالر سود کی ادائیگیوں پر خرچ ہوئے۔ انہوں نے کہا کہ زرمبادلہ کے ذخائر، بیرونی ادائیگیوں اور قرضوں سے متعلق مالیاتی حکمت عملی کے بارے میں شفافیت ضروری ہے۔

حلیم عادل شیخ نے سوال اٹھایا کہ اگر 2022 تک معیشت درست سمت میں آگے بڑھ رہی تھی تو گزشتہ چار سال کے دوران معاشی صورتِ حال میں خرابی کی وجوہات کیا تھیں؟ ان کا کہنا تھا کہ حکومت کو ان عوامل کی وضاحت کرنی چاہیے جن کے باعث قرضوں میں اضافہ ہوا اور معیشت کو درپیش مشکلات میں شدت آئی۔انہوں نے مطالبہ کیا کہ حکومت مجموعی سرکاری قرضوں، سود کی ادائیگیوں اور زرمبادلہ کے استعمال سے متعلق تفصیلی اعداد و شمار عوام کے سامنے پیش کرے تاکہ شہریوں کو ملکی معیشت کی حقیقی صورتِ حال اور قرضوں کے استعمال کے بارے میں آگاہی حاصل ہوسکے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں