شیری رحمان 70

پاکستان کا فریقین کو مذاکرات کی میز پر بٹھانا بڑی سفارتی کامیابی ہے، شیری رحمان

اسلام آباد(رپورٹنگ آن لائن) پیپلز پارٹی کی سینیٹر شیری رحمان نے کہا ہے کہ پاکستان کا نازک جنگ بندی کے ذریعے فریقین کو مذاکرات کی میز پر بٹھانا ایک بڑی سفارتی کامیابی ہے۔

عرب چینل کو انٹرویو دیتے ہوئے شیری رحمان کا کہنا تھا کہ مذاکرات خطے میں امن کی جانب اہم پیشرفت ہیں، جہاں بات چیت کو ہی واحد قابلِ عمل راستہ قرار دیا گیا۔

انہوں نے کہا کہ جنگ بندی نے فریقین کو مہلت دی تاکہ وہ اپنے مؤقف کا جائزہ لے کر آئندہ مذاکرات کیلئے حکمتِ عملی تیار کر سکیں، مذاکرات کا عمل وقت طلب ہوتا ہے اور کسی ایک نشست میں پائیدار حل ممکن نہیں۔

ان کا کہنا تھا کہ پاکستانی قیادت بشمول فیلڈ مارشل سید عاصم منیر، شہباز شریف، اسحاق ڈار اور آصف علی زرداری نے پس پردہ بھرپور سفارتی کوششیں کیں، تمام ریاستی اداروں اور سیاسی قیادت کے درمیان ہم آہنگی نے مذاکرات کو ممکن بنایا اور قومی اتحاد کا مظاہرہ کیا گیا۔

شیری رحمان نے کہا کہ فریقین نے ایک دوسرے کو سننے اور سمجھنے کی کوشش کی، جو کسی بھی کامیاب مذاکرات کیلئے بنیادی قدم ہوتا ہے، ماضی کے تنازعات اور میڈیا بیانیے کی وجہ سے فوری حل کی توقعات حقیقت پسندانہ نہیں تھیں۔

سینیٹر کا کہنا تھا کہ پاکستان نے غیر جانبدار پلیٹ فارم فراہم کر کے عالمی سطح پر اپنے سفارتی کردار اور اعتماد کو مضبوط کیا، فریقین کے درمیان براہِ راست اعتماد نہ ہونے کے باوجود اسلام آباد کو مذاکرات کے لئے منتخب کرنا ایک اہم پیش رفت ہے۔

رہنما پیپلزپارٹی نے کہا کہ ابتدائی تعطل اور بعض خلاف ورزیوں کے باوجود مذاکراتی عمل کو مثبت آغاز قرار دیا گیا، امن عمل کو آگے بڑھانے کیلئے تسلسل کے ساتھ بات چیت اور لچکدار حکمتِ عملی اپنانا ضروری ہے۔

ان کا مزید کہنا تھا کہ دنیا کو درپیش بڑے چیلنجز جیسے ماحولیاتی چیلنجز کے تناظر میں تصادم کے بجائے باہمی اور حل طلب مذاکرات کا طویل سلسلہ ناگزیر ہے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں