شرجیل انعام میمن 19

پاکستان پیپلز پارٹی کسی بھی صورت میدان خالی نہیں چھوڑے گی ،شرجیل انعام میمن

کراچی (رپورٹنگ آن لائن)سندھ کے سینئر وزیر اور پاکستان پیپلز پارٹی کے رہنما شرجیل انعام میمن نے کہا ہے کہ آزاد کشمیر کے انتخابات میں ن لیگ اور الیکشن کمیشن کی ملی بھگت واضح طور پر نظر آئی اور یہ گٹھ جوڑ پاکستان پیپلز پارٹی کے خلاف تھا۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان پیپلز پارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری نے انتخابات سے قبل خبردار کیا تھا کہ آزاد کشمیر میں شفاف اور غیر جانبدار انتخابات کرائے جائیں، کیونکہ ن لیگ کے مفادات سے بڑھ کر کشمیری عوام کے مفادات عزیز ہیں اور ملکی مفاد کو سیاسی مفادات پر ترجیح دی جانی چاہیے،

مگر افسوس کہ صورتحال اس کے برعکس رہی اور ن لیگ کے مفادات کو فوقیت دی گئی۔پیپلز سیکریٹریٹ اسلام آباد میں پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے شرجیل انعام میمن نے کہا کہ پاکستان پیپلز پارٹی کسی بھی صورت میدان خالی نہیں چھوڑے گی اور ہر فورم پر عوامی مینڈیٹ کا دفاع کرے گی۔ انہوں نے کہا کہ چیف الیکشن کمشنر اور ان کی پوری ٹیم ن لیگ کی “بی ٹیم” بنی رہی۔

الیکشن کمیشن کو متعدد تحریری شکایات دی گئیں لیکن ان پر کوئی کارروائی نہیں کی گئی۔ انہوں نے کہا کہ آزاد کشمیر کے انتخابات میں 2024 کے عام انتخابات کی تاریخ دہرائی گئی اور فارم 47 کے بعد اب “فارم 47 پلس” سامنے آ گیا ہے۔انہوں نے کہا کہ 2024 میں فارم 47 کے ذریعے حکومت بنانے والے لوگ ماضی سے کوئی سبق نہیں سیکھ سکے اور آج بھی عوامی مینڈیٹ پر ڈاکا ڈالنے کی روایت برقرار رکھے ہوئے ہیں۔ رانا ثنا اللہ اور امیر مقام کی پریس کانفرنسوں میں نہ صرف کوئی شرمندگی نظر نہیں آئی بلکہ ان کے لہجے میں غرور اور تکبر بھی نمایاں تھا۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان پیپلز پارٹی کا لہجہ بدتمیزی کا نہیں ہوگا، ہم تہذیب اور شائستگی کے دائرے میں رہتے ہوئے دلیل کے ساتھ جواب دیں گے اور اپنا مؤقف ہر متعلقہ آئینی و قانونی فورم پر پیش کریں گے۔

شرجیل انعام میمن نے کہا کہ الیکشن کمیشن نے غلط بیانی کرتے ہوئے دو حلقوں میں پولنگ ملتوی کی اور اپنی ناکامی چھپانے کے لیے بارش کو جواز بنایا، حالانکہ اسے اپنی ناکامی تسلیم کرنی چاہیے۔ انہوں نے کہا کہ نکیال میں پاکستان پیپلز پارٹی کے کارکن مختیار کو شہید کیا گیا، جو بے حسی کی انتہا تھی، مگر ن لیگ کی قیادت نے یہاں تک کہہ دیا کہ شہید ہونے والا پیپلز پارٹی کا کارکن ہی نہیں تھا۔انہوں نے کہا کہ ن لیگ کے “گلو بٹوں” نے ووٹ ڈالنے کے لیے جانے والے آزاد کشمیر کے صدر پر حملہ کیا۔ آزاد کشمیر کے وزیراعظم نے بھی اس حوالے سے شکایت کی، مگر اس کے باوجود کوئی کارروائی نہ کی گئی۔

انہوں نے کہا کہ ن لیگ کے “گلو بٹوں” کی کارروائیاں کسی سے ڈھکی چھپی نہیں ہیں اور آزاد کشمیر کے عوام کے ووٹ پر ڈاکا ڈالا گیا۔ فاروق حیدر کے حلقے میں کھلے عام دھاندلی ہوئی لیکن انتظامیہ خاموش تماشائی بنی رہی۔شرجیل انعام میمن نے کہا کہ ن لیگ کی قیادت “پی ٹی آئی پلس” بننے کی کوشش کر رہی ہے۔ ن لیگ کے امیدواروں کو دو روز قبل ہی بیلٹ پیپرز فراہم کر دیے گئے تھے، پولنگ اسٹیشنوں میں پولیس کی مدد سے دھاندلی کرائی گئی، جبکہ سینیٹر نیئر بخاری نے ایسے بیلٹ پیپرز بھی میڈیا کے سامنے پیش کیے جن پر پہلے سے ن لیگ کی مہریں لگی ہوئی تھیں۔ انہوں نے کہا کہ ن لیگ کے کارکن جعلی مہریں لگاتے رہے، جس کے ویڈیو شواہد بھی سامنے آ چکے ہیں۔انہوں نے کہا کہ 2024 میں پاکستان پیپلز پارٹی نے واضح طور پر اعلان کیا تھا کہ حکومت سازی کے لیے تحریک انصاف اور ن لیگ دونوں سے بات کی جائے گی۔

اس سلسلے میں سب سے پہلے تحریک انصاف سے رابطہ کیا گیا، مگر تحریک انصاف نے صاف انکار کر دیا کہ وہ حکومت کا حصہ نہیں بنے گی۔شرجیل انعام میمن نے کہا کہ میں سمجھتا ہوں کہ اب وفاقی حکومت کے دن گنے جانے کا وقت آ پہنچا ہے۔ انہوں نے یاد دلایا کہ چیئرمین بلاول بھٹو زرداری نے پہلے ہی خبردار کیا تھا کہ اگر عوامی مینڈیٹ پر ڈاکا ڈالا گیا تو حکومت کے دن گنے جانے شروع ہو جائیں گے، اور آج کے حالات ان کے مؤقف کی تصدیق کر رہے ہیں۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں