سولر لائسنسنگ 48

پاور ڈویژن کی 25 کلو واٹ تک سولر صارفین کیلئے فیس ختم کرنے کی سفارش

اسلام آباد (رپورٹنگ آن لائن) وفاقی وزیر توانائی کی ہدایت پر وزارت توانائی نے نیپرا سے 25 کلو واٹ تک سولر صارفین کیلئے فیس ختم کرنے اور لائسنس کی شرط ختم کرنے کیلئے باضابطہ نظرثانی کی درخواست کر دی۔

پاور ڈویژن کے مطابق 2015 کے پرانے ضوابط کے تحت 25 کلو واٹ یا اس سے کم صلاحیت کے سولر سسٹمز کیلئے نیپرا لائسنس درکار نہیں تھا، جبکہ درخواستیں تقسیم کار کمپنیوں کے ذریعے بغیر فیس پروسیس کی جاتی تھیں، تاہم نئے پروزیومر ریگولیشنز کے تحت چھوٹے سولر صارفین کیلئے بھی منظوری کا اختیار نیپرا کو دے دیا گیا اور درخواست فیس بھی عائد کر دی گئی۔

پاور ڈویژن نے مؤقف اختیار کیا ہے کہ اس تبدیلی سے گھریلو صارفین کیلئے غیر ضروری بیوروکریٹک رکاوٹیں پیدا ہوئی ہیں، جبکہ قابل تجدید توانائی کے فروغ کی کوششیں بھی متاثر ہو سکتی ہیں۔

ادارے کے مطابق پرائیویٹ پاور اینڈ انفراسٹرکچر بورڈ (پی پی آئی بی) نے بھی اس معاملے پر تشویش ظاہر کرتے ہوئے 25 کلو واٹ یا اس سے کم کے نظاموں کے لئے پرانا منظوری نظام برقرار رکھنے کی حمایت کی۔

عوامی سماعت کے دوران پاکستان سولر ایسوسی ایشن، پاکستان آلٹرنیٹو انرجی ایسوسی ایشن اور دیگر متعلقہ اداروں نے بھی ان تبدیلیوں پر اعتراض کرتے ہوئے مؤقف اپنایا کہ تقسیم کار کمپنیوں سے اختیار واپس لینا صارفین کیلئے مشکلات بڑھا رہا ہے۔

پاور ڈویژن نے نیپرا سے مطالبہ کیا ہے کہ 25 کلو واٹ یا اس سے کم کے نظاموں کیلئے پرانا طریقہ کار بحال کیا جائے تاکہ قابل تجدید توانائی کے فروغ میں رکاوٹیں دور کی جا سکیں۔

دوسری جانب گرمی کی شدت میں اضافے کے ساتھ ہی سولر کی ڈیمانڈ بڑھ گئی، مارکیٹ میں سولر پینلز کی قیمتوں میں ہوشربا اضافہ دیکھنے میں آیا ہے۔

دکانداروں کے مطابق درآمدی لاگت میں اضافہ اور بڑھتی ہوئی طلب کے باعث سولر پینلز اور دیگر آلات مہنگے ہوگئے ہیں، جس کا براہ راست اثر عام صارفین پر پڑ رہا ہے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں