لاہور(رپورٹنگ آن لائن )نائب امیر جماعت اسلامی لیاقت بلوچ نے کہا ہے کہ جماعت اسلامی نئے صوبوں اور انتظامی یونٹس کے مطالبے کو غیر آئینی نہیں سمجھتی تاہم اس حوالے سے آئین میں طے کردہ طریق کار پر مکمل عملدرآمد ہونا چاہیے،وفاقی اور صوبائی حکومتیں بااختیار بلدیاتی نظام کے قیام سے راہ فرار اختیار کر رہی ہیں جبکہ عوام کو نچلی سطح پر اختیارات منتقل کیے بغیر مسائل کا حل ممکن نہیں۔
اپنے بیان میں لیاقت بلوچ نے کہا کہ سندھ حکومت صوبے میں بااختیار مقامی حکومتوں کا نظام نافذ کرنے کیلئے تیار نہیں، اسی طرح مسلم لیگ (ن)بھی اسلام آباد اور پنجاب میں بااختیار بلدیاتی نظام کی جانب آنے کو تیار نہیں۔انہوں نے کہا کہ خیبرپختونخوا ہ میں پی ٹی آئی کی حکومت نے بھی بلدیاتی اداروں سے اختیارات واپس لے لیے ہیں جبکہ بلوچستان میں اتحادی حکومت بھی عوام کو بااختیار مقامی حکومتوں کا نظام دے کر ریلیف فراہم کرنے کا ذہن نہیں رکھتی۔نائب امیر جماعت اسلامی لیاقت بلوچ نے کہا کہ وزرا ء نئے صوبوں کی بات کر رہے ہیں، انہیں چاہیے کہ پہلے ملک میں بااختیار اور موثر مقامی حکومتوں کا نظام لائیں تاکہ عوام کے مسائل ان کی دہلیز پر حل ہوسکیں۔
انہوں نے کہا کہ انتظامی یونٹس یا نئے صوبوں کا قیام آئینی دائرہ کار کے اندر رہتے ہوئے کیا جا سکتا ہے تاہم اس معاملے کو سیاسی نعروں کے بجائے سنجیدہ آئینی اور انتظامی تقاضوں کے مطابق آگے بڑھایا جانا چاہیے۔لیاقت بلوچ نے کہا کہ بااختیار بلدیاتی نظام جمہوری نظام کی بنیادی ضرورت ہے لیکن وفاقی اور صوبائی حکومتیں اختیارات نچلی سطح تک منتقل کرنے سے گریزاں ہیں۔ انہوں نے مطالبہ کیا کہ حکومتیں آئینی تقاضوں کے مطابق بلدیاتی اداروں کو مالی، انتظامی اور سیاسی اختیارات دے کر انہیں حقیقی معنوں میں بااختیار بنائیں۔









