عطاء اللہ تارڑ 15

ملک میں میکرو اکنامک استحکام آ چکا، اپوزیشن تسلیم کرے، عطاء اللہ تارڑ

اسلام آباد (رپورٹنگ آن لائن) وفاقی وزیر اطلاعات و نشریات عطاء اللہ تارڑ نے کہا ہے کہ بجٹ میں تنخواہ دار طبقے کو ریلیف دیا گیا، ملک میں میکرو اکنامک استحکام آ چکا ہے، اپوزیشن تسلیم کرے۔

قومی اسمبلی میں بجٹ اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے عطاء اللہ تارڑ کا کہنا تھا کہ جمہوری روایات کا یہ ہاؤس امین ہے، لیڈر آف اپوزیشن نے جس ماحول میں بات کی ہم نے انہی ڈیسک سے کتابیں جلتی دیکھیں، کاغذ پھینکے جاتے رہے۔

انہوں نے کہا کہ اپوزیشن کو مثبت اقدامات کی تعریف کرنا چاہیے، تنخواہ دار طبقے کو خاطر خواہ ریلیف دیا گیا ہے، پچاس ہزار سے کم تنخواہ پر کوئی ٹیکس نہیں ہے،پچاس ہزار سے ایک لاکھ تک ایک فیصد ٹیکس لگایا گیا ہے، ملک ڈیفالٹ ہونے پر شرطیں لگ رہی تھیں، کئی افسران چھٹی لے کر چلے گئے۔

عطا تارڑ کا کہنا تھا کہ وزیراعظم شہباز شریف نے ریاست کی بقاء کیلئے سیاست کی قربانی دی، آئی ایم ایف کے ساتھ میٹنگ ہوئی، اگر وہ میٹنگ نہ ہوتی تو آج والی خوشحالی نہ آتی، پاکستان میں ایکسچینج ریٹ ایسے تبدیل ہو رہا تھا جیسے پنکھا چلتا ہے، کاروباری حضرات کی ایل سیز نہیں کھل رہی تھیں۔

وفاقی وزیر نے کہا کہ مہنگائی اڑتیس فیصد تھی اسی ایوان میں بطور اپوزیشن لیڈر دعوت دی کہ آئیں میثاق معیشت کرتے ہیں، ان کے وزراء خزانہ نے آئی ایم ایف کو خط لکھے، یہ چاہتے تھے کہ ملک دیوالیہ ہو، آئی ایم ایف کو لکھے گئے خط ریکارڈ کا حصہ ہیں۔

انہوں نے بتایا کہ یہاں سے خط لکھ رہے تھے کہ پاکستان کو بیل آؤٹ نہ ملے، اداروں کی بہت کاوش ہیں، فیلڈ مارشل سید عاصم منیر کی ٹیم کا کردار ہے کہ ملک میں استحکام ہوا، مہنگائی کی شرح سنگل ڈیجٹ پر آ سکتی تھی، شرح سود بائیس فیصد پر رہتا گیارہ فیصد پر نہ آتا تو کیا حالات ہوتے۔

ان کا کہنا تھا کہ ہم ایسی معیشت بنیں گے کہ ساری دنیا دیکھے گی، پوری دنیا معترف ہے کہ پاکستان نے امن کے لیے کردار ادا کیا، آج پاکستان کی عزت ہے، معیشت درست سمت میں گامزن ہے۔

عطا تارڑ نے مزید کہا کہ ہر کوئی بجٹ پر مثبت بات کر رہا ہے، بجٹ پر تنقید اور احتجاج اپوزیشن کا حق ہے، بجٹ میں مثبت اقدامات کی تعریف ضرور ہونی چاہیے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں