پروفیسر الفرید ظفر

ماں کا دود ھ نو نہالوں کو مختلف بیماریوں سے بچاؤ کا قدرتی ٹانک: پروفیسر الفرید ظفر

لاہور(زاہد انجم سے)پرنسپل پوسٹ گریجویٹ میڈیکل انسٹی ٹیوٹ و امیر الدین میڈیکل کالج پروفیسر ڈاکٹر محمد الفرید ظفر نے کہا ہے کہ نمونیا کا مرض نونہالوں اور ضعیف العمر افراد کے لئے جان لیوا ثابت ہوتا ہے کیونکہ کمزور قوت مدافعت کے بچے اور بڑی عمر کے افراد اس بیماری کا آسان ہدف بنتے ہیں۔انہوں نے کہا کہ نمونیا سمیت کئی بیماریوں میں مبتلا ہزاروں بچے اپنی پہلی سالگرہ کا سورج بھی دیکھ نہیں پاتے لہذا بچوں میں قوت مدافعت بڑھانے کیلئے ضروری ہے کہ مائیں اپنے شیر خواروں کو قرآنی احکامات کی روشنی میں دو سال تک دودھ پلائیں تاکہ یہ بچے نمونیا سمیت دیگر مہلک امراض سے محفوظ رہ سکیں۔

ان خیالات کا اظہار انہوں نے لاہور جنرل ہسپتال کے شعبہ طب اطفال کے زیر اہتمام عالمی دن برائے نمونیا کی مناسبت سے منعقدہ آگاہی واک کے شرکاء سے گفتگو کرتے ہوئے کیا۔ پروفیسر محمد شاہد، پروفیسر فہیم افضل، ایم ایس پروفیسر ڈاکٹر ندرت سہیل، ڈاکٹر جاوید مگسی، ڈاکٹر نادیہ ارشد، ڈاکٹر محمدمزمل،ڈاکٹر عثمان علی اور ڈاکٹر عبدالعزیز سمیت ہیلتھ پروفیشنلز کی کثیر تعداد نے شرکت کی۔

 پروفیسر الفرید ظفر نے شرکاء اور میڈیاسے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ سرد موسم، ماحولیاتی آلودگی اور سموگ پھیپھڑوں کے انفیکشن و نمونیا پھیلانے کا باعث بھی بنتا ہے لہذا بزرگوں اور بچوں کو اس موسم میں خصوصی احتیاطی برتنے کی ضرورت ہے تاکہ وہ کسی جان لیوا مرض کا شکار نہ ہوں۔ انہوں نے کہا کہ حکومت پنجاب نے بچوں کے حفاظتی ٹیکوں کے پروگرام میں نمونیا سے بچاؤ کی ویکسین (نیومو کوکل) کا انجیکشن بھی شامل کر دیا ہے اور اب دو سال تک کی عمر میں دس مختلف بیماریوں سے بچاؤ کے حفاظتی ٹیکے کی سہولت صوبے کے تمام ہیلتھ سینٹرز میں فراہم کی جا رہی ہے۔

پروفیسر الفرید ظفر کا کہنا تھا کہ والدین کی اب یہ ذمہ داری ہے کہ وہ حکومت کی جانب سے فراہم کردہ اس سہولت سے بھرپور فائدہ اٹھائیں اور اپنے بچوں کا مستقبل محفوظ بنائیں۔ انہوں نے کہا کہ عوام میں اس حوالے سے شعور کی کمی ہے اور لوگ بچوں کی صحت کے حوالے سے اپنی ذمہ داریوں کو نظر انداز کردیتے ہیں جس کے باعث لاکھوں بچے ہر سال مختلف امراض کے ہاتھوں جان کی بازی ہار جاتے ہیں ان میں سر فہرست نمونیا کا مرض بھی شامل ہے اور یونیسف کی رپورٹ کے مطابق دنیا بھر میں ہر 43سیکنڈ میں ایک بچہ نمونیا کی وجہ سے اپنی جان گنوا بیٹھتا ہے۔

طبی ماہرین نے اپنی گفتگومیں بتایا کہ نمونیا کا مرض انتہائی خطرناک اور جان لیوابیماری ثابت ہو سکتا ہے تاہم احتیاطی تدابیر کے باعث اس سے آسانی سے بچنا ممکن ہے۔ انہوں نے بتایا کہ یہ بیماری ہر عمر کے شخص کو لگ سکتی ہے لیکن بچوں میں اس کی شرح نسبتاً زیادہ ہے جبکہ ایک رپورٹ کے مطابق ہر سال لاکھوں بچے نمونیا سے مر جاتے ہیں۔ طبی ماہرین نے نمونیہ کی ابتدائی علامات پر روشنی ڈالتے ہوئے بتایا کہ کھانسی، تیز بخار، سینے میں درد، الٹیاں اور سانس لینے میں دشواری وغیرہ اس بیماری کی ابتدائی علامات میں شامل ہیں، اس سے بچنے کے لئے احتیاطی تدابیر کا سہا را لیں، جسم میں پانی کی مقدار کو پورا رکھیں،خود کو موسمی اثرات سے بچائیں اور بروقت ڈاکٹر سے رجوع کریں۔

ڈاکٹر نادیہ ارشد کا کہنا تھا نمونیا کی بنیادی طور پر 3 اقسام ہیں جن میں ” بیکٹیریل، وائرل اور فنگل نمونیا” شامل ہیں اور نمونیا دیگر انفیکشنز کے باعث بھی ہو سکتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ اگر بخار تین روز سے زیادہ رہے اورکھانسی بھی ٹھیک نہ ہو تو یہ نمونیا کی علامات ہوسکتی ہیں لیکن وٹامن سی سے بھر پور غذائیں نمونیاسے بچاؤ میں اہم کردار ادا کرتی ہیں۔ پرنسپل پی جی ایم آئی پروفیسر الفرید ظفر نے واک کے انعقاد کو سراہااور اختتام پر شہریوں میں آگاہی و حفاظتی تدابیر پر مبنی پمفلٹس بھی تقسیم کیے گئے۔