شیری رحمان 14

مانعِ حمل طریقوں کا استعمال 34 سے 52 فیصد تک بڑھا کر ہزاروں ماؤں اور بچوں کی جانیں بچائی جا سکتی ہیں، شیری رحمن

اسلام آباد (رپورٹنگ آن لائن)نائب صدر پیپلز پارٹی سینیٹر شیری رحمان نے کہاہے کہ مانعِ حمل طریقوں کا استعمال 34 سے 52 فیصد تک بڑھا کر ہزاروں ماؤں اور بچوں کی جانیں بچائی جا سکتی ہیں۔ اپنے بیان میں ا ورلڈ کنٹراسیپشن ڈے پر لڑکیوں کی تعلیم، خواتین کے روزگار اور معیاری صحت کی سہولتوں پر زور دیتے ہوئے شیری رحمن نے کہاکہ پاکستان کی آبادی 25.93 کروڑ، سالانہ آبادی میں 3.7 فیصد اضافہ ہو رہا ہے، پاکستان میں فی عورت اوسطاً 3.6 بچے پیدا ہوتے ہیں۔

سابق وزیر نے کہاکہ 17.3 فیصد جوڑوں کو فیملی پلاننگ کی مطلوبہ سہولتیں میسر نہیں، پاکستان میں مانعِ حمل طریقے استعمال کرنے کی شرح صرف 34 فیصد ہے۔ وفاقی وزیر نے کہاکہ پاکستان میں ہر سال تقریباً 11 ہزار ماؤں کی دورانِ حمل یا زچگی کے دوران اموات ہوتی ہیں۔ انہوںنے کہاکہ پاکستان میں ہر ایک ہزار زندہ بچوں میں سے 62 بچے ایک سال کی عمر سے پہلے انتقال کر جاتے ہیں۔ شیری رحمن نے کہاکہ مانعِ حمل طریقوں کا استعمال 34 سے 52 فیصد تک بڑھا کر ہزاروں ماؤں اور بچوں کی جانیں بچائی جا سکتی ہیں۔ نائب صدر پیپلز پارٹی نے کہاکہ پاکستان میں ہر سال تقریباً 38 لاکھ اسقاطِ حمل ہوتے ہیں، پاکستان میں ہر ایک ہزار خواتین میں اسقاطِ حمل کی شرح 66 ہے۔ انہوںنے کہاکہ پاکستان میں تقریباً 2 کروڑ 60 لاکھ بچے اسکول نہیں جا رہے، لڑکیوں کی تعلیم اور ہنر مندی پاکستان کے بہتر مستقبل کے لیے ضروری ہے۔

انہوںنے کہاکہ خواتین کی تعلیم اور معاشی خودمختاری سے خاندان کے فیصلوں اور صحت کے نتائج بہتر ہوتے ہیں۔ انہوںنے کہاکہ 2040 تک موجودہ آبادی کے رجحان کے تحت پاکستان کو مزید 10.4 کروڑ ملازمتیں درکار ہوں گی۔انہوںنے کہاکہ 2040 تک پاکستان کو مزید ایک کروڑ 55 لاکھ گھروں اور 57 ہزار پرائمری اسکولوں کی ضرورت ہوگی۔ نائب صدر پیپلز پارٹی نے کہاکہ غیر ارادی حمل میں کمی اور ماں بچے کی بہتر صحت کے لیے فیملی پلاننگ کی آسان اور سستی سہولتیں ضروری ہیں۔ انہوںنے کہاکہ مانعِ حمل اشیا ضروری صحت کی مصنوعات ہیں، ان تک آسان رسائی یقینی بنانا ہوگی۔ انہوںنے کہاکہ پاکستان کی پائیدار ترقی کے لیے لڑکیوں کی تعلیم، خواتین کا روزگار، صحت اور فیملی پلاننگ کو ساتھ لے کر چلنا ہوگا

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں