لاہور (رپورٹنگ آن لائن)امیر جماعت اسلامی پنجاب محمد جاوید قصوری نے کہا ہے کہ لانگ مارچ عارضی طور پر روکا ہے ،احتجاج اور دھرنے جاری رہیں گے ،جماعت اسلامی نے 7اگست کو 510مقامات پر احتجاج کیا اور 16اگست سے 42شہروں میں دھرنے دے رہے ہیں ، ہڑتال کے نتیجے میں حکومت پر دباو بڑھا ہے کہ وہ مذاکرات کی ٹیبل پر آئے ، ہمارے حکومتی وفد کے ساتھ پانچ ادوار ہوئے ہیں مگر حکومت کی ہٹ دھرمی کی وجہ سے یہ مسئلہ حل نہیں ہورہا ، وزیر اعظم کو اس مسئلے کو حل کرنا پڑے گا،جماعت اسلامی اپنے لئے کچھ نہیں مانگ رہی ۔
انہوں نے مطالبہ کیا ہے کہ پٹرولیم مصنوعات پر عائد بھاری ٹیکسز اور پٹرولیم لیوی کا فوری خاتمہ کیا جائے، حکومت عوام کو ریلیف دینے کے لیے عملی اقدامات کرے۔ پٹرول پر ٹیکسوں کا بوجھ عوام کی قوتِ خرید کو مسلسل متاثر کر رہا ہے، جس کے باعث مہنگائی میں اضافہ اور عام آدمی کے لیے روزمرہ زندگی مزید مشکل ہو گئی ہے۔ پٹرول پر عائد تقریباً 135 روپے کے مختلف ٹیکسز اور پٹرولیم لیوی عوام پر اضافی مالی بوجھ ہیں، جنہیں کم یا ختم کیے بغیر حقیقی ریلیف ممکن نہیں۔حکومت لیوی کی صورت میں 150ارب روپے یومیہ کما ررہی ہے ۔ جوکہ غریب عوام پر بہت بڑا ظلم ہے ۔محمد جاوید قصوری نے کہا کہ حکومت ایک طرف عوام کو ریلیف دینے کے دعوے کرتی ہے جبکہ دوسری طرف پٹرولیم مصنوعات پر مختلف ٹیکسز کے ذریعے شہریوں سے بھاری رقم وصول کی جا رہی ہے۔ پٹرول کی قیمت میں معمولی اضافہ بھی اشیائے ضروریہ، سبزی، دال، آٹا، دودھ، ٹرانسپورٹ اور صنعتی پیداوار کی قیمتوں پر براہِ راست اثر ڈالتا ہے۔
اس لیے پٹرولیم مصنوعات کو مہنگا کرنے والے ٹیکسز اور لیوی میں کمی عوام کو فوری ریلیف دینے کا مؤثر ذریعہ بن سکتی ہے۔انہوں نے کہا کہ وفاقی بجٹ 2026ـ27 میں پٹرولیم لیوی سے 1566ارب سے زائد کی آمدن کا تخمینہ رکھا گیا ہے، جو اس مد سے حکومت کی بڑی مالی وصولی کو ظاہر کرتا ہے۔ حکومت کو چاہیے کہ محصولات کا بوجھ عام شہریوں پر ڈالنے کے بجائے ٹیکس نیٹ کو وسیع کرے، غیر ضروری اخراجات کم کرے، اشرافیہ کو حاصل مراعات کا جائزہ لے اور معیشت کو پیداواری بنیادوں پر مضبوط بنائے۔امیر جماعت اسلامی پنجاب نے کہا کہ عوام پہلے ہی بجلی، گیس، پٹرول، اشیائے خورونوش اور دیگر ضروریاتِ زندگی کی بڑھتی ہوئی قیمتوں سے شدید متاثر ہیں۔ کم آمدنی والے طبقے کے لیے آمدن اور اخراجات میں بڑھتا ہوا فرق ایک بڑا مسئلہ بن چکا ہے۔
حکومت کو عوام کی مشکلات کا احساس کرتے ہوئے محض عارضی ریلیف پیکیجز کے بجائے مستقل اور پائیدار اقدامات کرنا ہوں گے۔ حکومت نے 100روپے فی لیٹر کمی کا اعلان کیا ہے،مگر جو طریقہ کار اختیارکیا گیا ہے وہ ہر کسی کے لئے قابل عمل نہیں، ضرورت اس با ت کی ہے کہ حکومت ڈنگ ٹپائو اقدامات کی بجاے طویل المدت حل کے لیے قیمتوں کے ڈھانچے اور ٹیکسوں کا ازسرنو جائزہ لے ۔پٹرول لیوی سراسر ظلم و زیادتی اور بھتہ ٹیکس کے مترادف ہے۔محمد جاوید قصوری نے مطالبہ کیا کہ حکومت پٹرولیم لیوی اور دیگر پٹرولیم ٹیکسز میں فوری کمی کا اعلان کرے، مہنگائی کو کنٹرول کرنے کے لیے جامع پالیسی بنائے اور عوام کو حقیقی معنوں میں معاشی ریلیف فراہم کرے۔ ان کا کہنا تھا کہ عوام کو ریلیف دینا حکومت کی بنیادی ذمہ داری ہے اور اس ذمہ داری سے کسی صورت پہلو تہی نہیں کی جانی چاہیے۔









