لاہور( رپورٹنگ آن لائن)جماعت اسلامی پاکستان کے نائب امیر لیاقت بلوچ نے مطالبہ کیا ہے کہ قومی ایکشن پلان کا زازسر نو جائزہ لیا جائے اور آل پارٹیز کانفرنس منعقد کرکے تمام اسٹیک ہولڈرز کو مشترکہ حکمت عملی کا حصہ بنایا جائے،قومی سلامتی کو لاحق خطرات اور سیاسی بحران کے پیش نظر ترجیحات کا تعین کرنا ہوگا،حکومتوں اور بااختیار حلقوں کو مل کر کام کرنا چاہیے تاکہ بیرونی مداخلت اور دہشتگردی کے خطرات کا موثرطور پر مقابلہ کیا جا سکے،
پاکستان میں موثر حکمرانی، عوام کو معاشی ریلیف کی فراہمی اور قومی سلامتی کے چیلنجز سے نمٹنے کے لیے بنیادی اصلاحات ضروری ہیں،ملک میں چھوٹے صوبوں کے قیام کی بحث سے پہلے بااختیار بلدیاتی نظام قائم کیا جائے، آئینی حدود کی پاسداری یقینی بنائی جائے اور عوام کو درپیش بنیادی مسائل حل کرنے کے لیے حکومتی نظام میں اصلاحات کی جائیں۔ایک انٹر ویو میں انہوںنے کہا کہ چھوٹے صوبے بنانا یا انتظامی یونٹس کی تعداد بڑھانا کوئی غیر آئینی یا غیر جمہوری مطالبہ نہیں تاہم اگر حکمرانی کا انداز، عوام کے ساتھ رویہ اور آئینی حدود کی خلاف ورزی کا رجحان برقرار رہا تو صوبوں کو چھوٹا کرنے کے باوجود مسائل مزید پیچیدہ ہوتے جائیں گے۔موثرحکمرانی کا تعلق محض ریاست یا صوبے کے حجم سے نہیں بلکہ انتظامی صلاحیت، عوامی مسائل حل کرنے، انصاف کی فراہمی اور اختیارات کی حقیقی منتقلی سے ہے۔لیاقت بلوچ نے کہاکہ ان کی جماعت پنجاب اور خیبر پختونخوا ہ کی انتظامی تقسیم سے متعلق تجاویز پہلے ہی پیش کر چکی ہے۔ پنجاب کو جنوبی، وسطی اور شمالی پنجاب میں تقسیم کرنے جبکہ لاہور کو الگ انتظامی حیثیت دینے کی تجویز ہے۔
اسی طرح خیبر پختونخوا ہ کو خیبر، ہزارہ، وسطی خیبر پختونخوا اور جنوبی خیبر پختونخوا میں تقسیم کرنے کی تجویز بھی جماعت اسلامی کے منصوبے کا حصہ ہے۔انہوں نے کہاکہ انتظامی تقسیم پر بحث جاری رہنی چاہیے، لیکن جلد بازی یا محض سیاسی طاقت کی بنیاد پر فیصلے مسلط کرنے کے بجائے عوام میں شعور پیدا کرنا اور اتفاقِ رائے حاصل کرنا ضروری ہے۔پیٹرولیم قیمتوں میں کمی کے لیے جماعت اسلامی کے حالیہ احتجاج کے بارے میں بات کرتے ہوئے لیاقت بلوچ نے کہاکہ عالمی منڈی میں تیل کی قیمتوں کے علاوہ پاکستان میں پیٹرولیم مصنوعات پر مختلف محصولات، لیویز اور دیگر اخراجات بھی عوام پر بوجھ بڑھاتے ہیں۔پیٹرول پر عائد لیوی، کسٹم ڈیوٹی اور کلائمیٹ سپورٹ لیوی سمیت مختلف مدات کا جائزہ لینے کی ضرورت ہے۔ انہوں نے کہاکہ اگر حکومت پیٹرولیم مصنوعات پر عائد بعض اضافی بوجھ ختم کرنے کے لیے اقدامات کرے تو عالمی منڈی میں قیمتیں زیادہ ہونے کے باوجود عوام کو ریلیف دیا جا سکتا ہے۔
انہوں نے واضح کیاکہ مارچ موخر کرنے کا مطلب احتجاج ختم کرنا نہیں، بلکہ جماعت اسلامی عوام کو ریلیف دلانے کے لیے احتجاج اور مذاکرات دونوں راستے اختیار کرتی رہے گی۔انہوںنے مطالبہ کیاکہ قومی ایکشن پلان کا ازسر نو جائزہ لیا جائے اور آل پارٹیز کانفرنس منعقد کرکے تمام اسٹیک ہولڈرز کو مشترکہ حکمت عملی کا حصہ بنایا جائے۔قومی سلامتی کو لاحق خطرات اور سیاسی بحران کے پیش نظر ترجیحات کا تعین کرنا ہوگا۔ حکومتوں اور بااختیار حلقوں کو مل کر کام کرنا چاہیے تاکہ بیرونی مداخلت اور دہشتگردی کے خطرات کا موثرطور پر مقابلہ کیا جا سکے۔









