اسلام آباد (رپورٹنگ آن لائن)سینیٹر مشاہد حسین سید نے کہا ہے کہ قائداعظم محمد علی جناحؒ کا وژن ایک خودمختار، مضبوط، جمہوری اور خوشحال پاکستان کا قیام تھا جہاں آئین و قانون کی بالادستی، مساوات، سماجی انصاف، انسانی حقوق، مذہبی آزادی اور تعلیم کو بنیادی اہمیت حاصل ہو۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے علامہ اقبال اوپن یونیورسٹی میں ’’قائداعظم کا وژن اور موجودہ پاکستان‘‘ کے موضوع پر منعقدہ سمپوزیم سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔
انہوں نے کہا کہ قائداعظم کے وژن کو عملی جامہ پہنانے کے لیے تعلیم، انسانی حقوق، خواتین کی بااختیار شمولیت اور کرپشن کے خاتمے کو قومی ترجیحات بنانا ہوگا۔پروفیسر ڈاکٹر ریاض احمد نے کہا کہ قائداعظمؒ نے برصغیر کے مسلمانوں کو متحد کرکے آزاد وطن کے حصول کی راہ ہموار کی، ان کا وژن آج بھی پاکستان کی ترقی، استحکام اور خوشحالی کے لیے مشعل راہ ہے۔ انہوں نے کہا کہ آئین کی بالادستی، قانون کی حکمرانی، اداروں کی مضبوطی اور قومی یکجہتی کے ذریعے پاکستان کو مضبوط اور باوقار ملک بنایا جاسکتا ہے۔
پروفیسر ڈاکٹر عبدالعزیز ساحر نے کہا کہ قائداعظمؒ اور علامہ اقبالؒ کے افکار و نظریات کے حقیقی محافظ آج کے نوجوان ہیں۔ نوجوان نسل کو عظیم رہنمائوں کی زندگی اور جدوجہد کا مطالعہ کرکے ملک و قوم کی تعمیر و ترقی میں موثر کردار ادا کرنا چاہیے۔ فیکلٹی آف سوشل سائنسز کے ڈین پروفیسر ڈاکٹر سید عامر شاہ نے کہا کہ اتحاد، ایمان اور نظم و ضبط قائداعظمؒ کے بنیادی اصول ہیں جن پر عملدرآمد کی ضرورت آج پہلے سے کہیں زیادہ ہے۔
انہوں نے طلبہ پر زور دیا کہ وہ قائداعظمؒ کے افکار کو عملی زندگی کا حصہ بنائیں اور محنت، دیانت و ذمہ داری کے ذریعے ملکی ترقی میں اپنا کردار ادا کریں۔ انہوں نے سمپوزیم کے انعقاد پر وائس چانسلر پروفیسر ڈاکٹر ناصر محمود کا شکریہ بھی ادا کیا۔ سمپوزیم کا اہتمام اقبال چیئر برائے مسلم و صوفی افکار، شعبہ تاریخ اور ڈائریکٹوریٹ آف سٹوڈنٹ ایڈوائزری اینڈ کونسلنگ سروسز نے باہمی اشتراک سے کیا۔ تقریب میں رجسٹرار راجہ عمر یونس، ڈاکٹر فوزیہ عمر، یونیورسٹی کے اساتذہ، پرنسپل افسران اور طلبہ و طالبات نے شرکت کی۔









