ہائیکورٹ 18

غیراعلانیہ لوڈشیڈنگ کیخلاف لاہور ہائیکورٹ میں آئینی درخواست دائر کر دی گئی

لاہور (رپورٹنگ آن لائن)لاہور سمیت پنجاب کے مختلف شہروں میں غیراعلانیہ لوڈشیڈنگ کے خلاف لاہور ہائیکورٹ میں آئینی درخواست دائرکردی گئی ۔ایڈووکیٹ محمد عرفان نے محمد اظہر صدیق ایڈووکیٹ کے توسط سے آرٹیکل 199کے تحت دائر آئینی درخواست میں سیکرٹری پاورڈویژنچیف ایگزیکٹیو لیسکوچیف ایگزیکٹیو میپکونیپرا حکام اور دیگر کو فریق بنایا ہے ۔ درخواست میں کہا گیا ہے کہ لاہور کے مختلف علاقوں میں روزانہ 8 سے 10گھنٹے جبکہ پاکپتن کے بعض علاقوں میں روزانہ 10سے 12گھنٹے تک بجلی کی غیراعلانیہ لوڈشیڈنگ کی جارہی ہے۔

بجلی صارفین سے مکمل بل وصول کے باوجود وہ قابلِ اعتماد بجلی کی فراہمی سے محروم ہیںلوڈشیڈنگ کی وجہ سے پانی، خوراک، ادویات، انٹرنیٹ، آن لائن تعلیم، کاروبار اور طبی سہولیات شدید متاثر ہو رہے ہیں.درخواست میں کہا گیا ہے کہ شدید گرمی میں بچوں، بزرگوں، مریضوں اور معذور افراد کو بجلی کی بندش سے خطرات لاحق ہیں فیڈر وائز لوڈشیڈنگ کے معیار، ریکوری، لائن لاسز اور دیگر وجوہات کی شفاف تفصیلات عوام کے سامنے لائی جائیںغیراعلانیہ لوڈشیڈنگ آرٹیکل 4، 9، 14، 18، 19-Aاور 25کے تحت آئینی حقوق کی خلاف ورزی ہے۔

درخواست میں آئین کے آرٹیکل 19-Aکے تحت فیڈر وائز لوڈشیڈنگ شیڈول، ٹرپنگ، فالٹ اور بحالی کا ریکارڈ فراہم کرنے کی استدعا کی گئی ہے اور عدالت سے استدعا کی گئی ہے کہ لیسکومیپکو سمیت دیگر پاور سپلائی کمپنیوں اور متعلقہ اداروں کو فیڈر وائز لوڈشیڈنگ شیڈول عوامی سطح پرجاری کرنے کی ہدایت کی جائیدرخواست میںنیپرا سے لوڈ مینجمنٹ اور فیڈر سلیکشن پالیسی کی تحقیقات کرانے طویل اور دستاویزی لوڈشیڈنگ کا سامنا کرنے والے صارفین کے لیے بل ایڈجسٹمنٹ، ریبیٹ یا دیگر قانونی ریلیف دینے کی استدعا کی گئی ہے۔درخواست میںغیر اعلانیہ لوڈشیڈنگ، جبری لوڈ مینجمنٹ، بار بار ٹرپنگ اور کم وولٹیج کے خلاف حکم جاری کرنے کی استدعا کی گئی ہے ۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں