لاہور (رپورٹنگ آن لائن)سابق وفاقی وزیر فواد چوہدری نے کہا ہے کہ نئے صوبوں کے قیام اور آئینی ترمیم کے معاملے پر مسلم لیگ (ن)اور پیپلز پارٹی کے ارکان اسمبلی اپنی قیادت کی مخالفت کے باوجود ترمیم کے حق میں ووٹ دے سکتے ہیں کیونکہ ان کی وفاداری اپنی سیاسی قیادت کے بجائے ان قوتوں کے ساتھ ہے جن کی حمایت سے وہ منتخب ہوئے،عمران خان اور اسٹیبلشمنٹ نئے نظام کی تشکیل اور اختیارات کی نچلی سطح تک منتقلی کے معاملے پر ایک پیج پر ہیں،اگر پاکستان تحریک انصاف نئے صوبوں کے قیام کی حمایت میں ووٹ دیتی ہے تو اس سے اسٹیبلشمنٹ اور پی ٹی آئی کے تعلقات میں بہتری آ سکتی ہے جبکہ خیبر پختونخوا ہ میں گورنر راج اور ایمرجنسی کی صورتحال ختم کرکے صوبے میں پی ٹی آئی کی حکومت بحال کرنے کی راہ بھی ہموار ہو سکتی ہے۔
ایک انٹر ویو میں انہوں نے کہا کہ مختلف لوگوں سے ہونے والی بات چیت کی بنیاد پر انہیں یہ معلومات ملی ہیں کہ دسمبر تک آئینی ترمیم اور نئے صوبوں کے قیام کے حوالے سے پیشرفت ہو سکتی ہے،سینیٹ انتخابات سے قبل نئے صوبوں کی تشکیل کا معاملہ بھی آگے بڑھایا جا سکتا ہے،اسٹیبلشمنٹ کی سوچ واضح ہے کہ طرز حکمرانی میں بہتری کے لیے اختیارات کی تقسیم اور انتظامی اختیارات کی نچلی سطح تک منتقلی ضروری ہے۔پاکستان میں 26ویں آئینی ترمیم کی منظوری میں جتنا وقت لگا، اس کے مقابلے میں 27ویں آئینی ترمیم کے لیے درکار وقت کا اندازہ لگانا بھی مشکل نہیں کیونکہ اگر فیصلہ کرنے والے حلقے کسی ترمیم کی منظوری کا فیصلہ کر لیں تو سیاسی جماعتوں کے لیے اس کی مخالفت کی گنجائش محدود رہ جاتی ہے۔
فواد چوہدری نے کہا کہ پی ٹی آئی نئے صوبوں کے قیام کی حامی ہے اور عمران خان بھی اختیارات کی تقسیم، طرز حکمرانی میں بہتری اور نئے نظام کی تشکیل کے حامی رہے ہیں،محسن نقوی کی جانب سے موجودہ نظام کی ناکامی اور نئے نظام کی ضرورت سے متعلق دئیے گئے بیانات اور عمران خان کے موقف میں مماثلت دکھائی دیتی ہے۔نئے انتظامی ڈھانچے اور اختیارات کی نچلی سطح تک منتقلی کے معاملے پر عمران خان اور اسٹیبلشمنٹ کی سوچ میں ہم آہنگی موجود ہے، جبکہ اس معاملے میں اصل اختلاف آصف علی زرداری اور شریف خاندان کے سیاسی مفادات سے متعلق ہے۔فواد چوہدری نے کہا کہ پی ٹی آئی پہلے ہی نئے صوبوں کے قیام کی حمایت کا اظہار کر چکی ہے ،اگر پی ٹی آئی نئے صوبوں کے قیام کے لیے آئینی ترمیم کی حمایت میں ووٹ دیتی ہے تو اس سے اسٹیبلشمنٹ کے ساتھ تعلقات میں بہتری کی راہ نکل سکتی ہے۔
انہوں نے امکان ظاہر کیا کہ اس پیشرفت کے نتیجے میں خیبر پختونخوا ہ میں گورنر راج کے خاتمے اور پی ٹی آئی کی حکومت کی بحالی کے لیے بھی حالات سازگار ہو سکتے ہیں،سیاسی محاذ آرائی کم کرنے اور معاملات کو آگے بڑھانے کے لیے پی ٹی آئی کو بھی مثبت سیاسی حکمت عملی اختیار کرنی چاہیے۔فواد چوہدری نے امکان ظاہر کیا کہ دسمبر تک آئینی ترمیم یا ریفرنڈم سے متعلق پیشرفت ہو سکتی ہے جبکہ سینیٹ انتخابات سے قبل نئے صوبوں کے قیام کا معاملہ بھی آگے بڑھایا جا سکتا ہے۔









