سینیٹ 198

سینیٹ میں نیب اور الیکشن بل پر بات نہ کرنے دینے پر تحریک انصاف کا ایوان سے علامتی واک آوٹ

اسلام آباد(رپورٹنگ آن لائن)سینیٹ میں نیب اور الیکشن بل پر بات نہ کرنے دینے پر تحریک انصاف نے ایوان سے علامتی واک آوٹ کرتے ہوئے حکومت پر الزام لگایاکہ یہ حکومت اپنے آپ کوریلیف اور عوام کوتکلیف دی رہی ہے ان کے خوش نماالفاط کے پیچھے بدنامہ عزائم ہیں، نواین آراو ٹو کے نعرے لگائے چیئرمین سینیٹ نے اپوزیشن کومشورہ دیاکہ یہ بل مشترکہ اجلاس میں چلے گئے ہیںاب وہاں جاکر احتجاج کریں۔

سینیٹ نے نیشنل رحم اللعالمین وخاتم النبین اتھارٹی بل 2022ایوان نے متفقہ طور پر منظور کرلیا۔مالی ذمہ داری اور قرض حد ترمیمی بل 2022کثرت رائے سے پاس کرلیا گیا۔مالی ذمہ داری اور قرض حد ترمیمی بل کمیٹی کوبھیجنے کے بجائے براہ راست منظورکرانے پر تحریک انصاف اورجماعت اسلامی نے شدیداحتجاج کرتے ہوئے چیئرمین ڈائس گاگھیراﺅ کیا ۔جمعرات کوسینیٹ کا اجلاس چیئرمین سینیٹ صادق سنجرانی کی زیر صدارت پارلیمنٹ ہاوس میں ہوا۔وقفہ سوالات ختم ہونے کے بعد قائدحزب اختلاف سینیٹرڈاکٹر شہزاد وسیم نے کہاکہ پارلیمنٹ میں عوامی امنگوں کے مطابق فیصلے ہونے چاہیے ۔

نیب اور الیکشن میں ترمیم کا بل آج مشترکہ اجلاس سے بل پاس کیا جارہاہے ۔سینیٹ میں بل بلڈوز کیا جاتا ہے ارکان اس بل پر بات کر ناچاہتے ہیں یہ قانون بلڈوز کررہے ہیں یہ قومی اہمیت کے حامل قوانین ہیں ۔اس حکومت کی پہلی ترجیح اپنے کیس ختم کرنا اور این آر او لینا ہے یہ اپنے آپ کو ریلیف اور عوام کو تکلیف دے رہے ہیں ۔انہوں نے اپنے کیسوں میں مداخلت کی گئی ہے ان کے خوش نما الفاظ کے پیچھے بدنامہ عزائم ہیں ۔اپنے آپ کو ایک اور این آر آو دے رہے ہیں ۔چیئر مین سینیٹ نے کہاکہ پہلے میں ایوان کابزنس لوں گا اس کے بعد بات کرنے دوں گا۔اس دوران ایوان میں نو این آر اوٹو کے نعرے تحریک انصاف نے نعرے لگائے۔اپنی نشستوں پر کھڑے ہوگئے اور شدید احتجاج کیا۔

قائدایوان سینیٹراعظم نزیر نے کہاکہ ان کے آرڈیننس سے نیب کا بل بنایا گیا ہے۔ چیئرمین سینیٹ نے کہاکہ پہلے بزنس اس کے بعد بات کریں آپ مشترکہ اجلاس میں جائیں وہاں احتجاج کریںیہاں قانون سازی ہوئی اب مشترکہ اجلاس کا بزنس ہے ۔شہزاد وسیم نے جواب دیاکہ پاکستان اہم ہے یہاں پر قانون سازی نہیں ہوئی قانون سازی کو بلڈوز کیا گیا ۔تحریک انصاف ایوان سے واک آﺅٹ کرگئی۔سینیٹرمحسن عزیز نے کہاکہ میرا بزنس نہیں لگ رہاہے چیئرمین سینیٹ جواب دیاکہ آپ واک آﺅٹ کرگئے ہیںاحتجاج کریں۔

چیئرمین سینیٹ نے دنیش کمار کو اپوزیشن منانے کے لیے بھیجا جس پردنیش کمار اپوزیشن کو مناکرواپس ایوان میں لائے۔ایوان میں 7کمیٹیوں کی رپورٹس پیش کرنے کی معیاد میں 60دن کے اضافے کی منظوری دی گئی۔وزارت ریلوے اور پاور کی مجوزہ پی ایس ڈی پی پر کمیٹیوں کی رپورٹس ایوان میں پیش کی گئیں۔وزیرمملکت برائے خزانہ عائشہ غوث پاشا نے مالی ذمہ داری اور قرض حد ترمیمی بل 2022ایوان میں پیش کیا ۔قائدحزب اختلاف سینیٹرشہزاد وسیم نے کہاکہ بل کمیٹی میں بھیج دیا جائے۔ یوسف رضاگیلانی نے کہاکہ خزانہ کمیٹی نہیں ہے اس لیے اس بل کو پاس کیا جائے۔قائدایوان سینیٹراعظم نذیر تارڑ نے کہاکہ بل پی ٹی آئی قومی اسمبلی میں لائی تھی اس لیے اس بل کو پاس کیا جائے ۔سینیٹر مشتاق احمد نے کہاکہ بل پر تحفظات ہیں اس کو کمیٹی میں بھیجا جائے ۔

وزیرتعلیم رانا تنویر حسین نے کہاکہ انہوں نے 36بل قومی اسمبلی سے 15منٹ میں پاس کرائیں ہیں وہ سیاہ دن تھا ۔یہ آپ کے بل ہیں ۔ اپوزیشن برائے اپوزیشن نہ کی جائے۔ کبھی مل کربھی چلنا چاہیے۔سینیٹرشوکت ترین نے کہاکہ خزانہ کمیٹی میں بھیج دیں تاکہ مشتاق احمد کے تحفظات دور ہوسکیں یہ بل ہمارا ہی تھا ۔سینیٹرشبلی فراز نے کہاکہ ہمارا ادارہ عزت کھو رہاہے ۔قومی اسمبلی اپائچ ہے یہاں سینیٹ میں آپ کی اکثریت ہے ۔بلوں کو کمیٹی میں بھیجا جائے ۔وزی مملکت عائشہ پاشا نے کہاکہ قرضوں کی ادائیگی سب سے بڑا مسئلہ ہے قرض کی حد لگارہے ہیں۔ بین الاقوامی ذمہ داری ہے اس لیے اس بل کو پاس کیا جائے۔

شہزاد وسیم نے کہاکہ بل ایک دن کے لیے کمیٹی میں بھیج دیاجائے۔بل کمیٹی کو بھجنے کے بجائے فوری پاس کرنے پر تحریک انصاف ،جماعت اسلامی نے شدید احتجاج کیا ۔چیئرمین کے ڈائس کا گھیرا کیا ۔نو بلڈوزنگ نو کے نعرے لگائے ۔مالی ذمہ داری اور قرض حد ترمیمی بل 2022کثرت رائے سے پاس کرلیا گیا۔وزیرتعلیم رانا تنویر حسین نے نیشنل رحم العالمین و خاتم النبیین اتھارٹی بل 2022ایوان میں پیش کیا۔

رانا تنویر نے کہاکہ سابقہ حکومت نے آرڈیننس جاری کیا تھا ہم اس کو ایکٹ میں لارہے ہیں سو فیصد اس پر عمل کیا جائے۔مشتاق احمد خان نے کہاکہ گن پوائنٹ پر قانون سازی اچھی قانون سازی نہیں ہوتی ہے ۔سینیٹ نے نیشنل رحم اللعالمین وخاتم النبین اتھارٹی بل 2022ایوان نے متفقہ طور پر منظور کرلیا

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں