لاہور ( رپورٹنگ آن لائن) ممبر قومی اسمبلی شیر افضل مروت نے کہا ہے کہ عمران خان کے غلط فیصلوں کا ازالہ نہ کیا گیا تو پارٹی کا کوئی مستقبل نہیں ہو گا، میں نے پارٹی کے لیے بہت سی قربانیاں دیں لیکن جب حکومت بنی اور تھوڑا بہت اچھا وقت آیا تو سب سے پہلے مجھے ہی تخت مشق بنایا گیا،اگر تین لوگوں کو سائیڈ پر کر دیا جائے تو وہ عمران خان کی رہائی کے لیے اپنا کردار ادا کرنے کو تیار ہیں۔
ایک انٹر ویو میںانہوں نے کہاکہ حکومت فیس سیونگ کا موقع بھی نہیں دے رہی، بہتر ہوگا کہ سہیل آفریدی استعفی دے کر سائیڈ پر ہو جائیں۔ عمران خان کی جانب سے سہیل آفریدی کی نامزدگی کا فیصلہ درست نہیں تھا جس کے نتائج پارٹی آج بھی بھگت رہی ہے۔شیر افضل مروت نے کہا کہ مذاکرات میں پی ٹی آئی سے ہمیشہ کے لیے احتجاج ختم کرنے کا مطالبہ کیا جا رہا ہے جو پارٹی پورا نہیں کر سکے گی۔اگر مارچ، تحریک یا احتجاج کرنا تھا اور لاکھوں لوگوں کو باہر نکالنا تھا تو اس کے لیے عملی اقدامات بھی کیے جانے چاہیے تھے تاہم ایسا کچھ نہیں کیا گیا۔میں مسلسل چیخ رہا تھا کہ اگر مارچ کرنا ہے، تحریک چلانی ہے یا احتجاج کرنا ہے اور لاکھوں لوگوں کا بندوبست کرنا ہے تو اس کے لیے عملی تیاری بھی ہونی چاہیے۔
پی ٹی آئی کی قیادت عوام کے درمیان نہیں گئی، نہ لوگوں کو متحرک کرنے کی کوئی کوشش کی گئی اور نہ ہی انہیں احتجاج کے لیے تیار کیا گیا،پورے پاکستان میں کسی ایک ضلع میں بھی پی ٹی آئی کی کوئی قابل ذکر سرگرمی نظر نہیں آئی۔شیر افضل مروت نے سوال اٹھایا کہ 27ستمبر کو جو کام نہیں ہو سکا، وہ 4اکتوبر کو کیسے ہو جائے گا؟ ایسی کون سی چیز ہوئی ہے جس کی وجہ سے اب یہ کام ممکن ہو جائے گا، مجھے تو نظر نہیں آتا۔انہوں نے کہاکہ ان تمام حالات کے پیش نظر بہتر یہی ہوگا کہ اگر اکتوبر میں بھی پسپائی ہوتی ہے تو اس کے اثرات کو سمجھا جائے کیونکہ اس طرح کی پسپائی سے پی ٹی آئی کی سیاست کو شدید نقصان پہنچ سکتا ہے۔شیر افضل مروت نے کہاکہ خیبر پختونخوا ہ کے عوام عمران خان کا ساتھ نبھانا چاہتے ہیں تاہم پی ٹی آئی کے سوشل میڈیا نے پوری قیادت کو بدنام کر رکھا ہے، موجودہ قیادت میں لوگوں کا اعتماد نہیں رہا، اسی وجہ سے لوگ باہر نہیں نکل پا رہے، البتہ ایک شخص جو اب بھی اعتماد کے قابل ہے وہ عمران خان ہے۔
عمران خان کی جانب سے کیے گئے فیصلوں اور پارٹی کی موجودہ صورتحال پر بات کرتے ہوئے شیر افضل مروت نے کہاکہ یہ تمام فیصلے عمران خان سے کروائے گئے ہیں اور عمران خان کی بھی کچھ ذمہ داری بنتی ہے۔جن فیصلوں کی وجہ سے پارٹی کو نقصان پہنچا، ان فیصلوں کو واپس لینا ہوگا اور پارٹی کو دوبارہ متحرک کرنے کے لیے ضروری ہے کہ کی جانے والی غلطیوں کا ازالہ کیا جائے۔سہیل آفریدی کے استعفے کی صورت میں نئے وزیراعلی کے سوال پر شیر افضل مروت نے کہا کہ یہ علی امین گنڈاپور ہوں گے یا کوئی اور اس کا فیصلہ عمران خان کریں گے اور وقت ہی بتائے گا کہ کیا فیصلہ ہوتا ہے۔عمران خان کی رہائی کے لیے اپنے کردار کے حوالے سے سوال پر شیر افضل مروت نے کہا کہ اگر سلمان اکرم راجہ، علیمہ خان اور سہیل آفریدی کو دور کیا جائے تو وہ اپنا کردار ادا کرنے کے لیے تیار ہیں۔









