نہال ہاشمی 17

سندھ کے ساحلی و سمندری وسائل قیمتی اثاثہ ہیں، پائیدار استعمال ضروری ہے، گورنر سندھ

کراچی(رپورٹنگ آن لائن)گورنر سندھ سید محمد نہال ہاشمی نے کہا ہے کہ سندھ کے ساحلی اور سمندری وسائل صوبے کا قیمتی اثاثہ ہیں، ان کے مؤثر اور پائیدار استعمال کے لیے تمام متعلقہ اداروں اور شعبوں کے درمیان مؤثر رابطہ و تعاون ضروری ہے۔

ان خیالات کا اظہار انہوں نے گورنر ہاؤس میں صوبائی وزیر لائیو اسٹاک و فشریز محمد علی ملکانی سے ملاقات کے دوران کیا۔ ملاقات میں سندھ بلوچستان کوسٹل گروپ آف کمپنی کے نائب صدر علی پسنانی بھی موجود تھے۔ملاقات میں ماہی گیری کے شعبے کی ترقی، سمندری وسائل کے مؤثر استعمال، ایکوا اسپورٹس، بلیو اکانومی، سرکاری و نجی شراکت داری اور ساحلی علاقوں میں معاشی سرگرمیوں کے فروغ سمیت باہمی دلچسپی کے امور پر تبادلہ خیال کیا گیا۔گورنر سندھ نے کہا کہ بلیو اکانومی جدید دور میں معاشی ترقی کا اہم شعبہ بن چکی ہے، سندھ کے طویل ساحلی خطے اور وسیع سمندری وسائل کو جدید ٹیکنالوجی، نجی سرمایہ کاری اور مؤثر منصوبہ بندی کے ذریعے معاشی ترقی کے لیے استعمال کیا جاسکتا ہے۔

انہوں نے کہا کہ ساحلی علاقوں میں ماہی گیری، سمندری تجارت، ایکوا اسپورٹس اور ساحلی سیاحت کے فروغ کے وسیع امکانات موجود ہیں، جن سے استفادہ کرکے معاشی سرگرمیوں میں اضافے کے ساتھ مقامی آبادی کے لیے روزگار اور کاروبار کے نئے مواقع پیدا کیے جاسکتے ہیں۔سید محمد نہال ہاشمی نے کہا کہ حکومت ماہی گیری سے وابستہ افراد اور کاروباری طبقے کو جدید سہولیات، بہتر بنیادی ڈھانچے اور جدید طریقہ کار کی فراہمی کے لیے اقدامات کررہی ہے، جبکہ سمندری وسائل کا تحفظ اور ان کا پائیدار استعمال بھی اہم ترجیحات میں شامل ہے۔

ملاقات میں ایکوا اسپورٹس اور ساحلی سیاحت کے فروغ کے امکانات کا بھی جائزہ لیا گیا۔ گورنر سندھ نے سرکاری و نجی شراکت داری کے ذریعے ساحلی اور سمندری شعبوں میں سرمایہ کاری بڑھانے کی ضرورت پر زور دیا۔صوبائی وزیر لائیو اسٹاک و فشریز محمد علی ملکانی نے گورنر سندھ کو ماہی گیری اور متعلقہ شعبوں میں جاری سرگرمیوں اور مستقبل کے منصوبوں سے آگاہ کیا۔ ملاقات میں سمندری وسائل کے تحفظ، ماہی گیری کے شعبے کی بہتری، ساحلی علاقوں میں سرمایہ کاری اور بلیو اکانومی کے فروغ سے متعلق مختلف تجاویز پر بھی غور کیا گیا۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں