لاہور (رپورٹنگ آن لائن)انسداد دہشت گردی عدالت نے سانحہ نو مئی کے مقدمات میں تحریک انصاف کے سینئر رہنما شاہ محمود قریشی کی ضمانت کی درخواست پر سماعت 5ستمبر اور اعجاز چوہدری کی ضمانت کی درخواستوں پر سماعت 9ستمبر تک ملتوی کر دی ۔ انسداد دہشت گردی عدالت کے جج منظر علی گل نے شاہ محمود قریشی کی سانحہ نو مئی جناح ہائوس کے قریب گاڑیاں جلانے کے مقدمے میں ضمانت کی درخواست پر سماعت کی ۔
جہاں شاہ محمود قریشی کی بیٹی مہر بانو ضمانت کی پیروی کے لئے پیش ہوئیں۔ جبکہ شاہ محمود قریشی کی جانب سے رانا مدثر ایڈووکیٹ عدالت میں پیش ہوئے ۔عدالت نے دلائل سننے کے بعد شاہ محمود قریشی کی ضمانت کی درخواست پر سماعت 5ستمبر تک ملتوی کر دی اور آئندہ سماعت پر پراسیکیوشن کو مقدمے کا ریکارڈ پیش کرنے کا حکم دے دیا ۔بعد ازاں عدالت نے باہر میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے شاہ محمود قریشی کے بیٹے زین قریشی نے کہا کہ شاہ محمود قریشی چار سال سے ناحق جیل میں قید ہیں ،پی ٹی آئی آج بانی پی ٹی آئی کے لیے انسانی بنیادی حقوق مانگ رہی ہے ۔شاہ محمود قریشی کو سائفر کیس میں گرفتار کیا گیا اس کے بعد نو مئی کے مقدمات میں گرفتار کرلیا گیا ،قتل کے مقدمات میں ضمانت ہو جاتی ہے مگر ادھر ضمانت کی درخواست پر ریکارڈ نہیں آرہا۔
شاہ محمود قریشی کی ضمانت پر پولیس ریکارڈ غائب کرلیتی ہے ۔ انہوں نے کہا کہ شاہ محمود قریشی سات مقدمات میں بری ہوچکے ہیں آج میں شکر گزار ہوں کہ عدالت نے واضح کیا ہے اگر ریکارڈ نہیں آتا تو میں فیصلہ کردوں گا۔علاوہ ازیں انسداد دہشت گردی عدالت کے جج منظر علی گل نے نو مئی کے تین مقدمات میں پی ٹی آئی رہنما اعجاز چوہدری کی ضمانت کی درخواستوں پر سماعت کی ۔اعجاز چوہدری کے وکیل میاں علی اشفاق دلائل کے لئے پیش ہوئے ۔پراسکیوشن نے مقدمات کا ریکارڈ پیش کرنے کے لئے مہلت طلب کی ۔وکیل اعجاز چوہدری کا موقف تھاکہ پراسکیوشن ضمانتوں پر فیصلہ لٹکانے کی کوشش کر رہی ہے۔عدالت نے ریکارڈ پیش نہ کرنے پر ضمانت کی درخواستوں پر سماعت 9ستمبر تک ملتوی کر دی ۔اعجاز چوہدری نے جناح ہائوس حملہ ،عسکری ٹاور حملہ اور جناح ہائوس کے قریب میں پولیس کی گاڑیاں جلانے کے مقدمات میں ضمانت کی درخواستیں دائر کر رکھی ہیں ۔








