ٹو کیو (رپورٹںگ آن لائن) حالیہ دنوں جاپانی وزیر اعظم سانائے تاکائیچی کو جاپان سمیت مختلف ممالک میں شدید تنقید کا سامنا ہے۔ جاپان کے “امن پسند آئین” میں ترمیم کرنے پر اصرار اور مہلک ہتھیاروں کی برآمد پر پابندی کے خاتمے سمیت ان کے غیر مقبول اقدامات کے ردعمل میں جاپان میں بڑے پیمانے پر مظاہرے ہوئے،اور صرف ٹوکیو ہی میں تقریباً پچاس ہزار افراد احتجاج کرنے کے لیے جمع ہوئے۔ چین، روس اور جنوبی کوریا سمیت جاپان کے ہمسایہ ممالک نے بھی اس کی تیزی سے بڑھتی ہوئی “دوبارہ عسکریت پسندی” کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا ہے کہ یہ علاقائی استحکام و سلامتی کے لیے خطرہ ہے۔
آسٹریلیا کے حالیہ دورے کے دوران کینبرا وار میموریل میں گھٹنوں کے بل بیٹھ کر پھول چڑھانے کا سانائے تاکائیچی کا “سیاسی شو”، دوسری جنگ عظیم کے دوران جاپان کے مظالم پر ندامت کا اظہار نہیں تھا، بلکہ بلاک محاذ آرائی کو ہوا دینے اور فوجی توسیع کو فروغ دینے کی ایک کوشش تھی۔
دوسری جنگ عظیم کے خاتمے کے بعد سے جاپانی حکومت نے نہ صرف چین، جنوبی کوریا اور شمالی کوریا جیسے متاثرہ ممالک کے عوام سے معافی نہیں مانگی بلکہ بعض جاپانی سیاستدان جاپانی جارحیت کے جرائم کا دفاع بھی کرتے رہے ہیں۔ خاص طور پر، سانائے تاکائیچی نے نانجنگ کے قتل عام کی تردید کی اور کئی سالوں تک پہلے درجے کے جنگی مجرموں کو خراج عقیدت پیش کرنے کے لیے یاسوکونی وار شرائن پر حاضری بھی دیتی رہیں۔
جغرافیائی سیاسی نقطہ نظر سے، جاپان کی انتہائی دائیں بازو کی قوتیں بیرونی خطرات کو بڑھا چڑھا کر پیش کر کے “امن پسند آئین” کی رکاوٹوں سے آزاد ہونے کی کوشش میں مصروف ہیں، اور اس کے لیے وہ ہمسایہ ممالک، بالخصوص مغربی ممالک کو بلاک تصادم میں شامل کرنے کے لیے اپنی پوری کوشش کر رہی ہیں۔ گزشتہ ماہ، جاپان اور آسٹریلیا نے آسٹریلوی بحریہ کے لیے جاپان کے اپ گریڈڈ “موگامی” کلاس ڈسٹرائر کی بنیاد پر ایک نئی قسم کا جہاز مشترکہ طور پر تیار کرنے کے لیے مفاہمتی یادداشت پر دستخط کیے، جس کے مطابق پہلے جہاز کی فراہمی 2029 میں متوقع ہے۔
اس کا بنیادی مطلب یہ ہے کہ جاپان آسٹریلیا کو تباہ کن جہاز برآمد کرے گا۔ لہذا، سانائے کاتائیچی کا “گھٹنے ٹیکنا” بھی مہلک ہتھیاروں کی برآمد کے لیے “عوامی حمایت حاصل کرنے کا عمل” تھا۔ جاپانی عسکری جارحیت کا شکار ہونے والے تمام ممالک کو انتہائی چوکس رہنا ہوگا تاکہ تاریخ کا المناک باب دوبارہ نہ دہرایا جا سکے









