مصطفیٰ کمال 15

ذہنی صحت کے بغیر صحت کا تصور نامکمل ہے،وزیر صحت

اسلام آباد(رپورٹنگ آن لائن)وفاقی وزیر صحت سید مصطفی کمال نے کہا ہے کہ ذہنی صحت کے بغیر صحت کا تصور نامکمل ہے، قومی ذہنی صحت پالیسی پاکستان میں ذہنی صحت کے شعبے کے لیے مشترکہ قومی سمت متعین کرتی ہے، ذہنی صحت کی خدمات کو فروغِ صحت، روک تھام، ابتدائی تشخیص، علاج، بحالی اور صحت یابی کے پورے تسلسل سے منسلک کیا جائے گا، سیلاب اور دیگر ہنگامی حالات میں ذہنی صحت کی ضروریات کو قومی رسپانس کا حصہ بنایا جائے گا اور ڈیجیٹل ہیلتھ سروسز کے ذریعے کم سہولیات والے علاقوں تک ذہنی صحت کی خدمات پہنچائی جائیں گی۔

وہ جمعرات کو یہاں دو روزہ پاکستان گلوبل مینٹل ہیلتھ سمٹ 2026 کی افتتاحی تقریب سے خطاب کر رہے تھے۔تقریب میں وزیر مملکت برائے صحت ڈاکٹر مختار احمد بھرتھ، پارلیمنٹیرینز، مختلف ممالک کے سفرا، عالمی ادارہ صحت کی ڈپٹی نمائندہ اور ماہرین صحت و نفسیات نے شرکت کی۔اس موقع پر قومی ذہنی صحت پالیسی کا اجرا کیا گیا۔ پالیسی کا مقصد ملک بھر میں ذہنی صحت کی خدمات کو مضبوط بنانا اور ہر خاندان تک ذہنی صحت کی سہولیات کی رسائی یقینی بنانا ہے۔سمٹ کے افتتاحی سیشن سے خطاب کرتے ہوئے وفاقی وزیر صحت سید مصطفی کمال نے کہا کہ ذہنی صحت صرف شعبہ صحت کا مسئلہ نہیں بلکہ قومی ذمہ داری ہے، جس کے لیے صحت، تعلیم، کمیونٹیز اور دیگر شعبوں کے درمیان مربوط اقدامات ضروری ہیں۔

انہوں نے کہا کہ اندازوں کے مطابق پاکستان میں تقریبا 2 کروڑ 40 لاکھ افراد کو نفسیاتی معاونت درکار ہے جبکہ ملک میں ہر 5 لاکھ افراد کے لیے ایک سے بھی کم ماہر نفسیات دستیاب ہے۔وفاقی وزیر نے کہا کہ ان اعدادوشمار کے پیچھے ایسے بچے ہیں جو اسکول میں مشکلات کا سامنا کر رہے ہیں، ایسے والدین ہیں جو کام نہیں کر پاتے اور ایسے خاندان ہیں جو مدد کے لیے کوشاں ہیں، اس لیے ہر فرد نگہداشت، وقار اور احترام کا مستحق ہے۔انہوں نے کہا کہ قومی ذہنی صحت پالیسی ملک کے لیے مشترکہ سمت فراہم کرتی ہے، تاہم تمام صوبوں بشمول گلگت بلتستان اور آزاد جموں و کشمیر کو اپنی مقامی ضروریات کے مطابق اقدامات کرنے کی گنجائش دی گئی ہے۔سید مصطفی کمال نے کہا کہ حکومت ذہنی صحت کو فروغ اور بیماریوں سے بچا سے لے کر بروقت تشخیص، علاج، بحالی اور صحت یابی تک نگہداشت کے مکمل نظام کے طور پر دیکھتی ہے۔

پالیسی کی ترجیحات میں بنیادی صحت کی سہولیات میں ذہنی صحت کو شامل کرنا، کمیونٹی پر مبنی خدمات کو مضبوط بنانا اور ضرورت کے مطابق خصوصی طبی سہولیات تک رسائی یقینی بنانا شامل ہے۔انہوں نے کہا کہ بچوں اور نوجوانوں کو قومی ذہنی صحت کے ردعمل میں مرکزی حیثیت حاصل ہونی چاہیے جبکہ اسکولوں، خاندانوں اور صحت کی خدمات کے درمیان تعاون کے ذریعے ذہنی صحت کی ضروریات کی ابتدائی مرحلے پر نشاندہی اور ان سے نمٹنا ضروری ہے۔وفاقی وزیر نے سیلاب اور دیگر ہنگامی حالات کے دوران ذہنی صحت کی معاونت مضبوط بنانے، طبی عملے کی استعداد کار بڑھانے اور پسماندہ و کم سہولت یافتہ آبادیوں تک رسائی کے لیے ڈیجیٹل صحت کی خدمات کے استعمال میں توسیع پر بھی زور دیا۔

انہوں نے اعلان کیا کہ پالیسی کے وعدوں کو عملی اقدامات میں تبدیل کرنے کے لیے صوبائی صحت اور تعلیم کے محکموں کے ساتھ مفاہمتی یادداشتیں (ایل او یوز)طے کی جائیں گی جبکہ اسلام آباد ڈیکلریشن فار مینٹل ہیلتھ بھی جاری کیا جائے گا۔سید مصطفی کمال نے کہا کہ تمام صوبے ابتدا ہی سے پالیسی کی تیاری کے عمل کا حصہ رہے ہیں اور وفاقی حکومت صوبوں کو ان کی ضروریات کے مطابق عملدرآمدی منصوبے تیار کرنے کے لیے مطلوبہ تکنیکی معاونت فراہم کرے گی۔ ان منصوبوں میں واضح ترجیحات، ذمہ داریاں، ٹائم لائنز اور قابل پیمائش نتائج شامل ہوں گے۔انہوں نے کہا کہ حتمی مقصد قومی عزم کو ایسی ذہنی صحت کی خدمات میں تبدیل کرنا ہے جو لوگوں کو ان کی اپنی کمیونٹیز میں دستیاب ہوں۔

وفاقی وزیر نے صوبائی قیادت، صحت و تعلیم کے محکموں کے تعاون اور گلوبل انسٹی ٹیوٹ آف ہیومن ڈویلپمنٹ، شفا تعمیر ملت یونیورسٹی، عالمی ادارہ صحت ، یونیسیف اور دیگر ترقیاتی شراکت داروں کے تعاون کو سراہا۔انہوں نے کہا کہ ذہنی صحت کے مسائل سے گزرنے والے افراد، نوجوانوں اور خاندانوں کو اس عمل کا لازمی حصہ بنانا ہوگا کیونکہ ان کی آوازیں حقیقی کمیونٹی ضروریات سے ہم آہنگ خدمات کی تشکیل کے لیے بنیادی اہمیت رکھتی ہیں۔

وفاقی وزیر نے تمام متعلقہ فریقوں پر زور دیا کہ وہ سمٹ سے مشترکہ عملی عزم کے ساتھ واپس جائیں اور پاکستان بھر میں مضبوط، قابل رسائی اور عوامی ضروریات پر مبنی ذہنی صحت کی خدمات کے قیام کے لیے اجتماعی کوششیں جاری رکھیں۔پاکستان گلوبل مینٹل ہیلتھ سمٹ 2026 اسلام آباد میں پاکستان میں بچوں، نوجوانوں اور کمیونٹیز کے لیے موسمیاتی تبدیلیوں سے نمٹنے کی صلاحیت رکھنے والے اور مستقبل کے لیے تیار ذہنی صحت کے نظام کی تشکیل کے موضوع پر منعقد ہورہا ہے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں