محمد جاوید قصوری 21

دینی مدارس پاکستان کے تعلیمی، اخلاقی اور سماجی نظام کا اہم حصہ ہیں’ جاوید قصوری

لاہور (رپورٹنگ آن لائن)جمعیت طلبہ عربیہ شمالی پنجاب کے زیرِ اہتمام لاہور میں ”مدارس دینیہ میں مدارس کا کردار” کے موضوع پر ایک اہم سیمینار منعقد ہوا، جس میں مقررنین کی جانب سے دینی مدارس کے کردار، اصلاحات، دستیاب مواقع، درپیش چیلنجز اور عصرِ حاضر کے تقاضوں کے حوالے سے تفصیلی گفتگو کی گئی۔ سیمینار کے مہمانِ خصوصی امیر جماعت اسلامی وسطی پنجاب محمد جاوید قصوری تھے، جنہوں نے اپنے خطاب میں پاکستانی معاشرے کی تعمیر، امتِ مسلمہ کے مسائل کے حل اور قومی ترقی میں دینی مدارس کی اہمیت کو اجاگر کیا۔محمد جاوید قصوری نے کہا کہ دینی مدارس پاکستان کے تعلیمی، اخلاقی اور سماجی نظام کا اہم حصہ ہیں۔

ان اداروں نے نسلوں کی دینی تربیت، اسلامی تعلیمات کی ترویج، اخلاقی اقدار کے تحفظ اور معاشرے میں خدمتِ خلق کے جذبے کو فروغ دینے میں نمایاں کردار ادا کیا ہے۔ مدارس کی خدمات کو تسلیم کرتے ہوئے انھیں جدید تقاضوں سے ہم آہنگ کرنے اور طلبہ کی صلاحیتوں کو نکھارنے کے لیے سنجیدہ اقدامات ناگزیر ہیں۔انہوں نے کہا کہ آج پاکستانی معاشرہ اخلاقی زوال، معاشی مشکلات، تعلیمی عدم مساوات، عدم برداشت اور سماجی تقسیم جیسے متعدد چیلنجز سے دوچار ہے۔ ایسے حالات میں دینی مدارس قرآن و سنت کی تعلیمات، کردار سازی، دیانت داری، رواداری، عدل و انصاف اور خدمتِ انسانیت کے اصولوں کو فروغ دے کر معاشرے کی اصلاح میں مؤثر کردار ادا کر رہے ہیں۔

مدارس کے اساتذہ اور طلبہ کو چاہیے کہ وہ اپنے علم، کردار اور عملی جدوجہد کے ذریعے معاشرے میں مثبت تبدیلی کا ذریعہ بنیں۔امیر جماعت اسلامی وسطی پنجاب نے کہا کہ امتِ مسلمہ کو علمی پسماندگی، فکری انتشار، فرقہ وارانہ اختلافات، اسلاموفوبیا، معاشی انحصار اور عالمی سطح پر مختلف سیاسی و سماجی چیلنجز کا سامنا ہے۔ ان مسائل سے نمٹنے کے لیے دینی مدارس کو تحقیق، علمی مکالمے، اجتہادی بصیرت اور امت کے اتحاد کے فروغ پر خصوصی توجہ دینی چاہیے۔ اختلافات کو تصادم کے بجائے دلیل، برداشت اور باہمی احترام کے ذریعے حل کرنا وقت کی اہم ضرورت ہے۔

محمد جاوید قصوری نے زور دیا کہ مدارس کے حوالے سے پائے جانے والے تحفظات اور درپیش مشکلات کا حل باہمی اعتماد، مشاورت، شفافیت اور تعمیری اصلاحات میں مضمر ہے۔ ریاست، تعلیمی اداروں، علما اور معاشرے کو مل کر ایسا ماحول پیدا کرنا چاہیے جس میں دینی تعلیم کے ساتھ تحقیق، شعور، برداشت اور قومی ذمہ داری کو فروغ ملے۔انہوں نے کہا کہ دینی مدارس اپنی علمی و اخلاقی بنیادوں کو مضبوط رکھتے ہوئے عصرِ حاضر کے تقاضوں سے ہم آہنگ ہوکر پاکستان کی تعمیر و ترقی میں مؤثر کردار ادا کر رہیں۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں