اسلام آباد/کرچی (رپورٹنگ آن لائن)وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی نے کہا ہے کہ دہشت گرد پاکستان کے دشمن ہیں، ان کا کوئی مذہب نہیں اور نہ ہی دہشت گردی کا کوئی مذہبی جواز ہے۔ ملک کے امن کو سبوتاژ کرکے انتشار اور افراتفری پیدا کرنا دشمن عناصر کی دیرینہ خواہش ہے، تاہم 22 کروڑ پاکستانی عوام قومی یکجہتی، اتحاد اور وحدتِ امت کے ذریعے دشمن کے ناپاک عزائم کو ناکام بنائیں گے۔
پاکستانی قوم بہادر، غیور اور متحد ہے، دشمن کے عزائم خاک میں مل جائیں گے اور شہداء کا خون رائیگاں نہیں جائے گا۔ان خیالات کا اظہار انہوں نے ملک بھر کے علماء و مشائخ کی نمائندہ تنظیم علماء مشائخ فیڈریشن آف پاکستان اور قومی امن رابطہ کونسل پاکستان کے سربراہ، سفیرِ امن پیر صاحبزادہ احمد عمران نقشبندی، سجادہ نشین آستانہ عالیہ بھیج پیر جٹاسے ملاقات کے دوران کیا۔ملاقات میں موجودہ ملکی سیاسی و سماجی حالات، امن و امان کی مجموعی صورتحال، قومی سلامتی، دہشت گردی کے خلاف جاری اقدامات اور باہمی امور سمیت مختلف اہم معاملات پر تفصیلی تبادلہ خیال کیا گیا۔
اس موقع پر قومی و بین الاقوامی امور میںفیلڈ مارشل سید عاصم منیر کے مثبت اور مؤثر کردارکو خراجِ تحسین پیش کیا گیا جبکہ ملک کے دفاع، امن و استحکام کے لیے اپنی جانوں کا نذرانہ پیش کرنے والے سیکیورٹی فورسز کے شہداء کو خراجِ عقیدت بھی پیش کیا گیا۔محسن نقوی نے کہا کہ پاکستان نے ہمیشہ خطے اور دنیا میں امن، مذاکرات اور سفارتی حل کو ترجیح دی ہے، ایران اور امریکہ کے درمیان کشیدگی کے دوران وزیراعظم محمد شہباز شریف کی قیادت میں پاکستان نے جنگ کے دائرہ کار کو مزید پھیلنے سے روکنے، فریقین کو مذاکرات کی میز پر لانے اور عالمی جنگ کے دروازے بند کرنے کے لیے جو سفارتی کردار ادا کیا، وہ پاکستان کی ذمہ دارانہ خارجہ پالیسی اور امن پسندانہ سوچ کا مظہر ہے۔
انہوں نے کہا کہ وزیراعظم شہباز شریف نے مشکل ترین حالات میں مسلسل سفارتی رابطوں کے ذریعے کشیدگی کم کرنے اور مذاکرات کی راہ ہموار کرنے کی کوششیں کیں، جبکہ فیلڈ مارشل سید عاصم منیر نے قومی سلامتی، دفاعی حکمتِ عملی اور بین الاقوامی سطح پر پاکستان کے مؤقف کو مؤثر انداز میں آگے بڑھانے میں اہم کردار ادا کیا۔پاکستان کی ان مشترکہ سیاسی، سفارتی اور عسکری کوششوں نے خطے میں تصادم کے پھیلاؤ کو روکنے اور پائیدار امن کے لیے مذاکراتی عمل کو آگے بڑھانے میں مدد دی۔محسن نقوی نے کہا کہ پاکستان کی امن کے لیے کوششیں صرف خطے تک محدود نہیں بلکہ عالمی امن اور انسانی جانوں کے تحفظ کے عزم کی عکاس ہیں۔اسلام آباد میں امریکہ اور ایران کے درمیان ہونے والے مذاکرات اور بعد ازاں مفاہمتی عمل نے یہ ثابت کیا کہ جنگ کے بجائے مذاکرات، تصادم کے بجائے مفاہمت اور طاقت کے بجائے سفارت کاری ہی پائیدار حل کا راستہ ہے۔
انہوں نے کہا کہ پاکستان کی قیادت نے اپنی قومی ذمہ داری نبھاتے ہوئے واضح کیا کہ دنیا مزید جنگوں اور تباہی کی متحمل نہیں ہوسکتی۔ پاکستان نے فریقین کے درمیان بات چیت، کشیدگی میں کمی اور پائیدار امن کے لیے اپنا تعمیری کردار ادا کیا اور آئندہ بھی عالمی و علاقائی امن کے لیے اپنی ذمہ داریاں ادا کرتا رہے گا۔وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی نے کہا کہ دہشت گرد، خارجی اور ان کے سہولت کار کسی صورت محب وطن نہیں ہوسکتے۔ ریاست دہشت گردوں، ان کے سہولت کاروں اور ملک دشمن عناصر کے خلاف بلاامتیاز کارروائی کررہی ہے۔ دہشت گردی کے خلاف جنگ میں پوری قوم پاک فوج، پولیس اور سیکیورٹی فورسز کے ساتھ کھڑی ہے اور امن کے دشمنوں کو کسی صورت کامیاب نہیں ہونے دیا جائے گا۔انہوں نے کہا کہ دہشت گردی کے خاتمے کے لیے صرف ریاستی اقدامات کافی نہیں بلکہ معاشرے کے تمام طبقات، بالخصوص علماء و مشائخ، کو اپنا مؤثر کردار ادا کرنا ہوگا۔ اولیائے کرام کی تعلیمات اور سنتِ نبوی ۖ پر عمل پیرا ہوکر معاشرے میں محبت، رواداری، اخوت اور امن کو فروغ دیا جاسکتا ہے۔
محسن نقوی نے مزید کہا کہ پاکستان کے امن، استحکام اور قومی سلامتی کے خلاف ہونے والی ہر سازش کا جواب قومی اتحاد، ملی یکجہتی اور قانون کی بالادستی کے ذریعے دیا جائے گا۔ قوم اپنے شہداء کی قربانیوں کو کبھی فراموش نہیں کرے گی اور ملک سے دہشت گردی اور انتہا پسندی کے مکمل خاتمے تک ریاست، عوام، علماء و مشائخ متحد ہوکر ”جہادِ امن” جاری رکھیں گے۔اس موقع پر پیر صاحبزادہ احمد عمران نقشبندی نے کہا کہ دہشت گرد انسانیت کے دشمن ہیں، بے گناہ انسانوں کا خون بہانے کی دنیا کا کوئی مذہب اجازت نہیں دیتا۔ دہشت گردی کی ہر کارروائی قومی سلامتی پر حملہ اور انسانیت کے خلاف سنگین جرم ہے۔
ایسے بزدلانہ واقعات ملک کو عدم استحکام کی طرف دھکیلنے کی سازش ہیں، مگر قوم اور ریاستی ادارے اس مذموم ایجنڈے کو کبھی کامیاب نہیں ہونے دیں گے۔انہوں نے کہا کہ ملک بھر کے عوام، علماء و مشائخ، عوامی و سماجی حلقے دہشت گردی کے خلاف اپنی افواج اور قومی سلامتی کے اداروں کے ساتھ چٹان کی طرح کھڑے ہیں۔ پاک فوج، پولیس اور سیکیورٹی فورسز کے افسران و جوانوں کی قربانیاں ملکی تاریخ کا ناقابلِ فراموش باب ہیں۔ پوری قوم اپنے شہداء کی عظیم قربانیوں کو سلام پیش کرتی ہے۔پیر صاحبزادہ احمد عمران نقشبندی نے کہا کہ علماء و مشائخ فتنہ الہندو فتنہ الخو ارج اور ان کے سہولت کاروں کی ملک دشمن کارروائیوں کی شدید مذمت کرتے ہیں اور ان فتنوں کے مکمل خاتمے کے لیے ریاستی اداروں کے ساتھ بھرپور تعاون جاری رکھیں گے، اور علماء و مشائخ عوام میں ملی یکجہتی، قومی اتحاد، امن اور وحدتِ امت کا شعور بیدار کرتے رہیں گے۔
سجادہ نشین آستانہ عالیہ بھیج پیر جٹا نے کہا کہ اولیائے اللہ نے ہمیشہ اسلامی تعلیمات، نماز کی پابندی، حسنِ اخلاق اور آلِ محمد ۖ سے محبت کا درس دیا۔ درگاہیں اور خانقاہیں ہمیشہ محبت، اخوت، خلوص، رواداری اور انسانیت کی خدمت کا پیغام دیتی رہی ہیں۔ بزرگانِ دین کی تعلیمات کو عام کرکے معاشرے سے نفرت، انتہا پسندی اور دہشت گردی کے رجحانات کا خاتمہ کیا جاسکتا ہے۔









