محمد جاوید قصوری 16

جی ڈی پی کا صرف ایک فیصد تعلیم پر خرچ کرنا المیہ ہے’ جاوید قصوری

لاہور(رپورٹنگ آن لائن) امیر جماعت اسلامی پنجاب محمد جاوید قصوری نے کہا ہے کہ ملک میں تعلیم کے شعبے سے مسلسل غفلت قومی مستقبل کو داؤ پر لگانے کے مترادف ہے،سروسز اکیڈمی کی پالیسی رپورٹ کے مطابق ڈھائی کروڑ سے زائد بچے دہائیوں سے اسکولوں سے باہر ہیں جبکہ تعلیمی ایمرجنسی جیسے اقدامات بھی مطلوبہ نتائج دینے میں ناکام رہے ہیں، ناکافی فنڈنگ، غیر مربوط تعلیمی نظام، کمزور طرز حکمرانی، اسکولوں، بنیادی سہولیات اور اساتذہ کی شدید کمی نے لاکھوں بچوں کو ان کے بنیادی حق سے محروم کر رکھا ہے۔

انہوں نے اپنے بیان میں کہا کہ اقوام متحدہ کی سفارش ہے کہ ہر ملک اپنی مجموعی قومی پیداوار کا کم از کم 4 فیصد تعلیم پر خرچ کرے، مگر پاکستان میں یہ شرح مسلسل کم ہو کر تقریباً ایک فیصد تک پہنچ چکی ہے، جو انتہائی تشویشناک صورتحال ہے۔ آئین کے آرٹیکل 25ـاے کے تحت ریاست ہر بچے کو مفت اور لازمی تعلیم فراہم کرنے کی پابند ہے، لیکن اس آئینی ذمہ داری پر عملدرآمد نہ ہونے کے باعث پاکستان دنیا میں تعلیمی محرومی کا دوسرا بڑا بوجھ اٹھانے والے ممالک میں شامل ہو چکا ہے۔محمد جاوید قصوری نے کہا کہ پنجاب میں اسکول سے باہر بچوں کی تعداد ایک کروڑ کے قریب پہنچ چکی ہے۔ پنجاب اسکول ایجوکیشن ڈیپارٹمنٹ کی 2026 کی رپورٹ کے مطابق 64 لاکھ بچوں نے کبھی اسکول کا رخ ہی نہیں کیا، جبکہ 31 لاکھ 60 ہزار بچے مختلف وجوہات کی بنا پر تعلیم ادھوری چھوڑ چکے ہیں۔

یہ اعداد و شمار واضح کرتے ہیں کہ مسئلہ صرف داخلوں کا نہیں بلکہ بچوں کو تعلیمی نظام میں برقرار رکھنا بھی حکومت کے لیے ایک بڑا امتحان ہے، جس میں وہ بری طرح ناکام رہی ہے۔انہوں نے کہا کہ حکمرانوں کا تعلیم جیسے بنیادی شعبے کے ساتھ ناروا سلوک انتہائی شرمناک ہے۔ تعلیم ہر بچے کا پیدائشی اور آئینی حق ہے، مگر کروڑوں بچے اس نعمت سے محروم ہیں۔ دوسری جانب اعلیٰ تعلیم یافتہ نوجوان ڈگریاں ہاتھوں میں لیے روزگار کی تلاش میں دربدر پھر رہے ہیں۔

سرکاری و نجی شعبوں میں روزگار کے محدود مواقع، میرٹ کی پامالی اور معاشی بدحالی نے نوجوان نسل کو شدید مایوسی سے دوچار کر دیا ہے۔امیر جماعت اسلامی پنجاب نے مطالبہ کیا کہ حکومت تعلیم کو حقیقی قومی ترجیح بنائے، تعلیمی بجٹ میں نمایاں اضافہ کرے، نئے اسکول تعمیر کیے جائیں، اساتذہ کی بھرتی اور بنیادی سہولیات کی فراہمی یقینی بنائی جائے، اسکول چھوڑنے والے بچوں کی واپسی کے لیے مؤثر حکمت عملی اختیار کی جائے اور نوجوانوں کو باعزت روزگار فراہم کرنے کے لیے عملی اقدامات کیے جائیں۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں