جاپانی وزیر اعظم 18

جاپان کی بطور شکست خوردہ ملک ،عسکریت پسندی کے خاتمے سمیت اپنی ذمہ داریوں کی ادائیگی لازمی ہے، چینی وزارت دفاع

بیجنگ (رپورٹنگ آن لائن) اطلاعات کے مطابق، جاپانی وزیر اعظم سانائے تاکائیچی نے حال ہی میں ڈائٹ کے ایک غیر معمولی اجلاس سے اپنے خطاب میں دعویٰ کیا کہ جاپان کے ارد گرد سکیورٹی کا ماحول پیچیدہ اور سنگین ہے، اور سال کے اختتام تک “تین سکیورٹی دستاویزات” میں ترمیم کر کے دفاعی صلاحیتوں کو بنیادی طور پر بڑھایا جائے گا ۔

چینی وزارتِ قومی دفاع کے ترجمان سینئر کرنل چھن شی نے اس حوالے سے کہا کہ جاپانی انتظامیہ “آس پاس کے علاقوں میں سکیورٹی کے خطرات” کے نام نہاد بہا نے کے تحت “ری ملٹرائزیشن” کے عمل کو تیز کر رہا ہے اور اپنی سکیورٹی پالیسیوں کو خطرناک سمت میں دھکیل رہا ہے۔ “نئی قسم کی عسکریت پسندی” اب جنگ کے بعد کے بین الاقوامی نظم و نسق کو چیلنج کرنے، جوہری عدم پھیلاؤ کے بین الاقوامی نظام کو نقصان پہنچانے اور علاقائی امن و استحکام کو خطرے میں ڈالنے کا ایک نمایاں عنصر بن رہی ہے۔

ترجمان نے اس بات پر زور دیا کہ دوسری جنگ عظیم میں ایک شکست خوردہ ملک کی حیثیت سے، جاپان کی جانب سے عسکریت پسندی اور جنگی صلاحیتوں کے خاتمے اور دوبارہ اسلحہ سازی پر پابندی سمیت اپنی ذمہ داریاں پوری کرنا لازمی ہے۔انہوں نے کہا کہ جاپان کو آئین میں ترمیم، عسکری توسیع اور جوہری ہتھیاروں کے حصول کے لیے اپنے خطرناک اقدامات کوبند کرنا چاہیے، بصورت دیگر جاپان صرف ماضی کی غلطیوں کو دہرا ئےگا اور اس کا کوئی مستقبل نہیں ہوگا۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں