جاپانی 16

جاپانی ڈرامے “ویونٹ” میں چین کو بدنام کرنے کی ناکام کوشش کی گئی، چینی میڈیا

بیجنگ (رپورٹنگ آن لائن) جاپانی ٹیلی ویژن نیٹ ورک ٹی بی ایس پر حال ہی میں ٹی وی ڈرامے “ویونٹ” کا دوسرا سیزن نشر کیا گیا ۔ تاہم، اس ڈرامے کی کہانی انتہائی مضحکہ خیز ہے۔ ڈرامے میں چینی انٹیلی جنس اہلکاروں کو جاپانی انٹیلی جنس اہلکاروں کی انگلیاں کاٹتے اور ان کے پیٹ میں چھرا گھونپتے ہوئے دکھایا گیا ہے۔ یہ مناظر چین پر جاپانی جارحیت کے دوران جاپانی فوج کی جانب سے چینی مزاحمتی کارکنوں پر ڈھائے جانے والے مظالم سے مشابہت رکھتے ہیں۔ اس کے علاوہ، ڈرامے میں جاپان کی بیرونِ ملک غیر قانونی کارروائیوں کو مثبت انداز میں پیش کیا گیا ہے، جاپان کی سیلف ڈیفنس فورسز کے دائرۂ کار کو مبہم بنایا گیا ہے اور بالواسطہ طور پر توسیع پسندانہ بیانیے کو فروغ دیا گیا ہے۔

حالیہ برسوں میں جاپان ایک طرف “چین سے خطرے” کےجھوٹے بیانیے کو فروغ دے کر اپنے آئین میں ترمیم اور فوجی توسیع کی راہ ہموار کر رہا ہے تو دوسری طرف خود کو دوسری جنگِ عظیم کا متاثرہ فریق ظاہر کرکے اپنی تاریخی ذمہ داریوں سے توجہ ہٹانے کی کوشش کر رہا ہے۔ چند روز قبل جاپان کے سابق وزیرِاعظم شیگیرو ایشیبا نے کہا تھا کہ ” چین نے جاپان پر حملہ نہیں کیا تھا، بلکہ جنگ جاپان نے شروع کی تھی، جس کے نتیجے میں کروڑوں افراد ہلاک ہوئے” ۔ اگر جاپان میں تاریخی حقائق پر مبنی آوازوں کو تفریحی اور ثقافتی مواد کے ذریعے پھیلائے جانے والے جھوٹے بیانیوں کے باعث نظرانداز کیا گیا تو عسکریت پسندی کی واپسی کا خطرہ بڑھ سکتا ہے۔

28 اکتوبر کو، ٹی بی ایس ٹیلی ویژن کے صدر ماسامینے ریوحو نے ہٹ دھرمی کا مظاہرہ کرتے ہوئے “ویونٹ” ڈرامے پر چینی میڈیا کی تنقید کے جواب میں کہا کہ ادارے کو اس حوالے سے آراء موصول ہوئی ہیں اور وہ انہیں سنجیدگی سے لے رہے ہیں۔ تاہم، انہوں نے مؤقف اختیار کیا کہ “ویونٹ” مکمل طور پر فرضی کہانی پر مبنی تفریحی پروگرام ہے اور اس کے ذریعے کسی مخصوص ملک کو بدنام کرنے یا اس کے عوام کے جذبات مجروح کرنے کا کوئی ارادہ نہیں۔ اس وضاحت پر جاپانی سوشل میڈیا صارفین نے فوری طور پر ردعمل کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ جب ڈرامے میں مخالف ملک کی واضح نشاندہی کی گئی ہے تو پھر یہ کہنا کہ کہانی کسی مخصوص ملک کے بارے میں نہیں، ایک بے معنی جواز ہے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں