حلیم عادل شیخ 21

تھر کول سے اربوں روپے کی آمدنی کے باوجود تھر کے عوام بنیادی سہولیات سے محروم کیوں ہیں؟ حلیم عادل شیخ

کراچی(رپورٹنگ آن لائن) پاکستان تحریک انصاف سندھ کے صدر حلیم عادل شیخ نے تھرپارکر میں صاف پانی، صحت، تعلیم، روزگار اور قدرتی ماحول کی صورتحال پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے سندھ حکومت سے مطالبہ کیا ہے کہ تھر کول سے حاصل ہونے والی رائلٹی اور منافع کی مد میں وصول ہونے والی رقوم، ان کے استعمال اور ضلع میں جاری و مکمل ہونے والے ترقیاتی منصوبوں کی تفصیلات عوام کے سامنے لائی جائیں۔

اپنے بیان میں حلیم عادل شیخ نے کہا کہ تھر کول منصوبے سے اربوں روپے کی آمدنی حاصل ہونے کے باوجود تھرپارکر کے عوام آج بھی پینے کے صاف پانی، معیاری تعلیم، صحت اور دیگر بنیادی سہولیات سے محروم ہیں۔ حکومت وضاحت کرے کہ تھر کول کی رائلٹی کی مد میں وصول ہونے والے 62 ارب روپے اور منافع کی مد میں حاصل ہونے والے 8 ارب روپے کہاں خرچ کیے گئے؟ تھرپارکر کی ترقی کے لیے ان رقوم میں سے کتنی رقم مختص اور کتنی خرچ کی گئی؟ سڑکوں، پانی، اسپتالوں اور اسکولوں پر ہونے والے اخراجات کی تفصیلات بھی جاری کی جائیں۔انہوں نے سوال کیا کہ تھر کے کوئلے سے بجلی پیدا کرنے اور اربوں روپے آمدنی حاصل کرنے کے دعووں کے باوجود مقامی آبادی کی زندگیوں میں کیا تبدیلی آئی؟ کتنے دیہات کو پینے کا صاف پانی فراہم کیا گیا، کتنے علاقوں میں صحت اور تعلیم کی سہولیات بہتر ہوئیں اور مقامی نوجوانوں کو کتنے فیصد روزگار دیا گیا؟

ان کے مطابق تھر کے عوام کو محض اعلانات کے بجائے اپنے وسائل سے حاصل ہونے والی آمدنی میں جائز حصہ ملنا چاہیے۔حلیم عادل شیخ نے تھرپارکر میں آر او پلانٹس کی صورتحال پر سوال اٹھاتے ہوئے کہا کہ مٹھی میں ایشیا کے سب سے بڑے سولر آر او پلانٹ کا 2015ئ میں افتتاح کیا گیا، لیکن یہ منصوبہ گزشتہ آٹھ سال تک بند کیوں رہا؟ اس کی تعمیر پر کتنی رقم خرچ ہوئی، مشینری اور سولر پینلز کی حفاظت کس ادارے کی ذمہ داری تھی اور منصوبے کو غیر فعال رکھنے کے ذمہ داروں کے خلاف کیا کارروائی کی گئی؟انہوں نے دعویٰ کیا کہ تھرپارکر میں نصب 832 آر او پلانٹس میں سے صرف 101 فعال ہیں، جو مجموعی تعداد کا تقریباً 12 فیصد بنتے ہیں۔ اسی طرح 2023 میں 834 آر او پلانٹس میں سے 555 غیر فعال پائے جانے کی اطلاعات سامنے آئی تھیں۔ حکومت واضح کرے کہ ان پلانٹس کی مرمت اور بحالی کے لیے کتنے فنڈز مختص کیے گئے اور دیکھ بھال کے ٹھیکے کن کمپنیوں یا اداروں کو دیے گئے۔

پی ٹی آئی سندھ کے صدر نے تھرپارکر میں نومولود بچوں کی اموات پر بھی تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ مٹھی سول اسپتال میں 2026ئ کے ابتدائی مہینوں کے دوران نومولود بچوں کی 315 اموات کا سرکاری طور پر اعتراف کیا گیا، جبکہ اسپتال کے نوزائیدہ بچوں کے انتہائی نگہداشت یونٹ (این آئی سی یو) میں آٹھ ماہ کے دوران 480 بچوں کی اموات سے متعلق رپورٹ بھی سامنے آئی۔انہوں نے مطالبہ کیا کہ حکومت ان دونوں اعدادوشمار میں فرق کی وضاحت کرتے ہوئے اموات کی وجوہات، طبی سہولیات کی دستیابی اور متعلقہ اداروں کی کارکردگی پر جامع رپورٹ جاری کرے۔ان کا کہنا تھا کہ کم وزن بچوں کی پیدائش، غذائی قلت اور نومولود بچوں کی اموات جیسے مسائل تشویشناک ہیں۔ حکومت بتائے کہ سرکاری اسپتالوں میں جدید مشینری، ضروری ادویات، ماہر ڈاکٹروں اور نوزائیدہ بچوں کی انتہائی نگہداشت کی سہولیات کس حد تک دستیاب ہیں؟

بنیادی مراکز صحت اور دیہی مراکز صحت میں ڈاکٹروں، طبی عملے اور ادویات کی کمی کیوں ہے؟ تھرپارکر کے مریضوں کو بہتر علاج کے لیے حیدرآباد اور کراچی کا رخ کیوں کرنا پڑتا ہے؟حلیم عادل شیخ نے تھرپارکر میں 250 سے زائد موروں کی پراسرار بیماری کے باعث ہلاکتوں کی اطلاعات پر بھی تشویش ظاہر کی۔ ان کا کہنا تھا کہ مور تھر کی قدرتی شناخت اور ماحول کا اہم حصہ ہیں۔ محکمہ وائلڈ لائف بتائے کہ ان پرندوں کی بیماری کی تشخیص، ویکسینیشن اور علاج کے لیے کیا اقدامات کیے گئے؟ انہوں نے معاملے کی تحقیقات اور مستقبل میں ایسے واقعات کی روک تھام کے لیے مؤثر اقدامات کی تفصیلات جاری کرنے کا مطالبہ کیا۔پی ٹی آئی سندھ کے صدر نے ضلع میں تعلیم کی صورتحال پر بات کرتے ہوئے کہا کہ دستیاب اعدادوشمار کے مطابق تھرپارکر کے 3 ہزار 839 اسکولوں میں سے 253 غیر فعال ہیں، جبکہ تین لاکھ سے زائد بچے اسکولوں سے باہر ہیں۔

حکومت وضاحت کرے کہ ان بچوں کو تعلیمی اداروں میں لانے اور غیر فعال اسکولوں کی بحالی کے لیے کیا اقدامات کیے گئے ہیں۔انہوں نے کہا کہ تھرپارکر میں لڑکیوں کی شرح خواندگی صرف 23 فیصد ہونے کی اطلاعات بھی تشویشناک ہیں۔ دیہی علاقوں میں بچیوں کے لیے علیحدہ اسکولوں، خواتین اساتذہ اور دیگر تعلیمی سہولیات کی کمی کب دور کی جائے گی؟ان کا مزید کہنا تھا کہ حکومت اسکولوں میں اساتذہ کی حاضری یقینی بنانے کے نظام اور تعلیمی اداروں میں پینے کے پانی، بجلی، بیت الخلا اور فرنیچر جیسی بنیادی سہولیات کی دستیابی کے اعدادوشمار بھی سامنے لائے۔حلیم عادل شیخ نے سندھ حکومت سے مطالبہ کیا کہ تھر کول کی رائلٹی اور منافع کی سال وار وصولیوں اور اخراجات کا تفصیلی آڈٹ عوام کے سامنے پیش کیا جائے، آر او پلانٹس کی تنصیب، فعالیت اور دیکھ بھال کا ریکارڈ جاری کیا جائے، صحت و تعلیم کے منصوبوں پر ہونے والے اخراجات کی وضاحت کی جائے اور مقامی نوجوانوں کو روزگار کی فراہمی کے اعدادوشمار سامنے لائے جائیں۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں