لاہور (رپورٹنگ آن لائن)امیر جماعت اسلامی پنجاب محمد جاوید قصوری نے کہا ہے کہ ملک میں جاری توانائی بحران، بجلی اور گیس کی بڑھتی ہوئی قیمتیں اور صنعتوں کی بندش نے کاروباری طبقے کو شدید پریشانی میں مبتلا کر دیا ہے،متعدد صنعتیں بند ہو چکی ہیں جبکہ باقی بھی شدید مشکلات کا شکار ہیں، جس کے نتیجے میں بے روزگاری اور غربت میں تیزی سے اضافہ ہو رہا ہے۔
انہوں نے کہا کہ اس وقت ملک کی 40 فیصد سے زائد آبادی خط غربت سے نیچے زندگی گزارنے پر مجبور ہے، جو حکومتی پالیسیوں کی ناکامی کا منہ بولتا ثبوت ہے۔ انہوں نے کہا کہ مہنگی بجلی اور گیس نے صنعتی پہیہ جام کر دیا ہے، جس سے نہ صرف مقامی پیداوار متاثر ہوئی بلکہ برآمدات میں بھی نمایاں کمی دیکھنے میں آ رہی ہے۔ موجودہ صورتحال برقرار رہی تو اس سال برآمدات کی مد میں 7 ارب ڈالر تک نقصان ہونے کا خدشہ ہے، جو ملکی معیشت کے لیے ایک بڑا دھچکا ہوگا۔ ان کا کہنا تھا کہ صنعتوں کی بندش سے نہ صرف لاکھوں افراد بے روزگار ہو رہے ہیں بلکہ سرمایہ کار بھی بددل ہو کر ملک سے سرمایہ باہر منتقل کرنے پر مجبور ہو رہے ہیں۔
محمد جاوید قصوری نے کہا کہ ملک میں ہر طرف بدعنوانی عروج پر ہے، جس نے اداروں کی کارکردگی کو بری طرح متاثر کیا ہے۔ کرپشن کے خاتمے کے بغیر معاشی استحکام ممکن نہیں اور جب تک شفاف نظام قائم نہیں کیا جاتا، مسائل میں کمی نہیں آئے گی۔انہوں نے حکومت سے مطالبہ کیا کہ وہ فوری طور پر توانائی بحران پر قابو پانے کے لیے عملی اقدامات کرے، بجلی اور گیس کی قیمتوں میں کمی لائے اور صنعتوں کو ریلیف فراہم کرے تاکہ کاروباری سرگرمیاں بحال ہو سکیں۔ انہوں نے مزید کہا کہ پالیسیوں میں تسلسل اور سنجیدگی کے بغیر معیشت کو سنبھالنا ممکن نہیں۔ محمد جاوید قصوری نے کہا کہ اگر بروقت اور درست فیصلے نہ کیے گئے تو ملکی حالات مزید سنگین ہو جائیں گے اور عوامی مشکلات میں مزید اضافہ ہوگا۔








