پاکستان 17

بھارت کی آبی جارحیت جنوبی ایشیا کے امن کو خطرے میں ڈال دے گی،دفتر خارجہ

اسلام آباد (رپورٹنگ آن لائن) دفتر خارجہ نے کہا ہے کہ کشمیر عالمی سطح پر تسلیم شدہ متنازع خطہ ہے، بھارت غیر ذمہ دارانہ بیانات کے ذریعے مقبوضہ کشمیر سے توجہ ہٹانا چاہتا ہے۔

وزارت خارجہ کے ترجمان نے ہفتہ وار بریفنگ میں بتایا کہ بھارت غیرذمہ دارانہ بیانات سےمقبوضہ کشمیر کی صورتحال سےتوجہ ہٹانا چاہتا ہے، کشمیر عالمی سطح پرتسلیم شدہ متنازع خطہ ہے، یو این سلامتی کونسل کی قراردادوں میں کشمیر کےعوام سےحق خودارادیت کاوعدہ کیا گیا، کشمیر سےمتعلق بھارتی بیانات کی کوئی وقعت ہے نہ کوئی جواز ہے۔

بھارتی وزیر پانی سی آر پٹیل کی جانب سے پاکستان کی طرف ایک قطرہ بھی پانی نہ پہنچنے دینے کے بیان پر دفتر خارجہ نے کہا ہے کہ ہم اس بیان کو مسترد کرتے ہیں، ایسے اقدامات جنوبی ایشیا کے امن کو خطرے میں ڈال دیں گے، ایسے اقدامات سے پیدا ہونے والے صورتحال کا ذمہ دار ہندوستان ہوگا، پاکستان تمام ضروری اقدامات اٹھائے گا۔

دفتر خارجہ کے ترجمان طاہر اندرابی نے کہا ہے کہ صومالیہ میں پاکستانی شہری تقریباً 50 روز سے قزاقوں کے قبضے میں ہیں، جن کی رہائی کے لیے حکومت پاکستان تمام ممکنہ سفارتی اور ادارہ جاتی سطح پر کوششیں کر رہی ہے، تاہم صورتحال انتہائی پیچیدہ ہونے کے باعث اب تک پیش رفت محدود رہی ہے۔

ترجمان کے مطابق یرغمال پاکستانی شہری ایک کارگو جہاز پر موجود ہیں، جن کے ساتھ دیگر ممالک کے عملے کے ارکان بھی شامل ہیں، حکومت پاکستان مسلسل اس معاملے پر صومالی حکام، مقامی فریقین اور جہاز کے مالک سے رابطے میں ہے تاکہ یرغمالیوں کی جلد از جلد بحفاظت واپسی ممکن بنائی جا سکے۔

ترجمان نے بتایا کہ نائب وزیراعظم و وزیر خارجہ اسحاق ڈار نے دو روز قبل صومالی وزیر خارجہ سے ٹیلیفونک گفتگو کی، جس میں انہوں نے نہ صرف پاکستانی شہریوں بلکہ دیگر یرغمال افراد کی صورتحال بہتر بنانے پر بھی زور دیا، اس موقع پر پاکستان نے اس معاملے پر اپنی شدید تشویش سے آگاہ کیا اور فوری اقدامات کی ضرورت پر زور دیا۔

طاہر اندرابی کے مطابق اسلام آباد میں صومالی سفیر کو بھی طلب کر کے اس معاملے پر پاکستان کے تحفظات سے آگاہ کیا گیا، جبکہ وزارت خارجہ میں اس حوالے سے بین الوزارتی اجلاس بھی منعقد کیے گئے ہیں تاکہ ایک مربوط حکمت عملی کے تحت پیش رفت کو یقینی بنایا جا سکے۔

پاکستان نے مشرق وسطیٰ اور خلیجی خطے میں کشیدگی پر گہری تشویش کا اظہار کرتے ہوئے تمام فریقین پر زور دیا ہے کہ وہ جنگ بندی کے معاہدوں کا احترام کریں اور تنازعات کے حل کے لیے مذاکرات اور سفارت کاری کا راستہ اختیار کریں۔

ترجمان کے مطابق پاکستان کا مؤقف ہے کہ خطے کے تمام دیرینہ مسائل کا حل صرف بات چیت اور سفارتی کوششوں کے ذریعے ہی ممکن ہے، پاکستان ہمیشہ سے پرامن حل اور کشیدگی میں کمی کی حمایت کرتا رہا ہے۔

انہوں نے بتایا کہ پاکستان نے اس سلسلے میں مختلف علاقائی اور بین الاقوامی شراکت داروں کے ساتھ رابطے جاری رکھے ہیں تاکہ امن اور استحکام کو فروغ دیا جا سکے، پاکستان کی کوشش ہے کہ کسی بھی نئی کشیدگی سے خطے میں انسانی جانوں کے نقصان اور عدم استحکام سے بچا جا سکے۔

ترجمان نے کہا کہ پاکستان اپنے اصولی مؤقف کے مطابق تمام تنازعات کے پرامن حل اور مذاکراتی عمل کی حمایت جاری رکھے گا، اور خطے میں استحکام کے لیے تعمیری سفارت کاری میں اپنا کردار ادا کرتا رہے گا۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں