بلڈ پریشر کی پیمائش

بلڈ پریشر کی پیمائش دونوں بازووں سے نہ کرنا مہلک ثابت ہوسکتا ہے، ماہرین

لندن(رپورٹنگ آن لائن) برطانوی طبی ماہرین نے کہا ہے کہ بلڈ پریشر کی پیمائش دونوں بازووں سے نہ کرنا مہلک ثابت ہو سکتا ہے۔غیر ملکی میڈیا کے مطابق برطانوی ماہرین نے کہا ہے کہ بلند فشار خون کی پیمائش ایک بازو کے بجائے دونوں بازووں سے کی جانی چاہیے کیونکہ ڈر ہے کہ بلڈ پریشر کی پیمائش کا موجودہ طریقہ کار سے ہائپر ٹینشن کے لاکھوں کیسز سامنے آنے سے رہ سکتے ہیں۔ماہرین نے بتایا کہ بلند فشار خون دل کے دورے اور فالج کا سبب ہوسکتا ہے اور یہ دونوں طبی صورت حال ہی دنیا میں سب سے زیادہ اموات کا سبب بنتی ہیں۔

انہوں نے کہا کہ 50 ہزار سے زائد افراد پر کی جانے والی تحقیق میں فشار خون کی ایک بازو سے لی جانے والی پیمائش اور دونوں بازووں سے لی جانے والی پیمائش کے درمیان فرق کا تجزیہ کیا گیا۔جب دونوں پیمائشیں لے لیں گئیں تو 12 فی صد مریض جن کو سب اچھا ہے کی رپورٹ دے دی گئی تھی ان کو بلند فشار خون کے مریض کے طور پر دوبارہ شمار کر لیا گیا۔

یونیورسٹی آف ایکسیٹر سے تعلق رکھنے والے تحقیق کے سربراہ ڈاکٹر کرسٹوفر کلارک کا کہنا تھا کہ بلند فشار خون ایک عالمی مسئلہ ہے اور اس کے اتار چڑھاو پر توجہ نہ دینا جان لیوا ثابت ہوسکتا ہے۔انہوں نے کہا کہ دونوں بازووں سے پیمائش کا نہ لیا جانا اور بلند پیمائش کو استعمال کیا جانا نہ صرف نامکمل تشخیص اور بلند فشار خون کے علاج کا سبب بنتا ہے بلکہ دنیا بھر میں لاکھوں افراد کو لاحق خطرے کا کم اندازہ سامنے لاتا ہے۔ماہرین کا کہنا ہے کہ کس بازو سے بہتر پیمائش لی جاسکتی ہے یہ بتانا ناممکن ہوتا ہے۔ لہٰذا دونوں بازووں کو چیک کرنا اہم ہے۔