برجیس طاہر 21

اقوامِ متحدہ کا ضمیر کب جاگے گا، کشمیریوں کو حقِ خودارادیت کب ملے گا؟ ‘چوہدری برجیس طاہر

سانگلہ ہل(رپورٹنگ آن لائن )سابق گورنر و سابق وفاقی وزیر برائے امورِ کشمیر و گلگت بلتستان چوہدری محمد برجیس طاہر نے کہا ہے کہ 27اکتوبر محض ایک تاریخ نہیں بلکہ کشمیری عوام کی دہائیوں پر محیط جدوجہد، قربانیوں اور مظلومیت کی دردناک داستان ہے۔ انہوں نے سوال اٹھایا کہ اقوامِ متحدہ کا ضمیر کب جاگے گا اور کشمیریوں کو ان کا حقِ خودارادیت کب ملے گا؟ ،21اپریل 1948 کو اقوامِ متحدہ کی سلامتی کونسل نے قرارداد 47منظور کی، جس میں جموں و کشمیر کے مستقبل کا فیصلہ آزادانہ اور غیر جانب دارانہ رائے شماری کے ذریعے کرنے کی سفارش کی گئی تھی۔

بھارتی وزیراعظم جواہر لال نہرو نے بھی نومبر 1947 میں مختلف بیانات اور پیغامات میں کشمیری عوام کو اپنے مستقبل کا فیصلہ کرنے کا حق دینے کی یقین دہانی کرائی تھی۔ مگر کئی دہائیاں گزرنے کے باوجود یہ مسئلہ حل طلب ہے اور کشمیری عوام اپنے مستقبل کے فیصلے کے منتظر ہیں۔چوہدری محمد برجیس طاہر نے کہا کہ دنیا کے سامنے ایک اہم سوال ہے کہ اگر مشرقی تیمورکے عوام اقوامِ متحدہ کی نگرانی میں ہونے والی مشاورت کے ذریعے اپنی آزادی کی راہ متعین کر سکتے ہیں اور جنوبی سوڈان کے عوام 2011 میں ریفرنڈم کے ذریعے آزادی حاصل کر سکتے ہیں تو کشمیری عوام کو اپنی مرضی کے مطابق مستقبل منتخب کرنے کا موقع کیوں نہیں دیا جا رہا؟ مشرقی تیمور میں 1999 کی مشاورت اور جنوبی سوڈان میں 2011 کے ریفرنڈم کے نتائج نے ان عوام کی سیاسی خواہشات کے اظہار کی راہ ہموار کی۔ برجیس طاہر نے مطالبہ کیا کہ اقوامِ متحدہ کشمیر کے معاملے میں بھی اپنی قراردادوں اور ذمہ داریوں کے مطابق مثر کردار ادا کرے اور کشمیری عوام کو حقِ خودارادیت دینے کے لیے عملی اقدامات کیے جائیں۔ سابق وفاقی وزیر نے مقبوضہ کشمیر میں انسانی حقوق کی صورتِ حال پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ کشمیری عوام طویل عرصے سے تشدد،گرفتاریوں، ماورائے عدالت قتل، پیلٹ گنوں کے استعمال اور دیگر سنگین خلاف ورزیوں کے الزامات کے باعث مشکلات کا سامنا کر رہے ہیں۔

ان کا کہنا تھا کہ فلسطین سمیت دنیا کے مختلف خطوں میں انسانی المیوں پر آواز اٹھانے والی عالمی برادری کو کشمیر میں انسانی حقوق کے تحفظ کے لیے بھی سنجیدہ اقدامات کرنے چاہئیں۔ انہوں نے انسانی حقوق کی بین الاقوامی تنظیموں پر زور دیا کہ وہ مقبوضہ کشمیر کی صورتِ حال کا غیر جانب دارانہ جائزہ لیں اور شہریوں کے بنیادی حقوق کے تحفظ کو یقینی بنانے کے لیے اپنا کردار ادا کریں۔چوہدری محمد برجیس طاہر نے 5 اگست 2019 کے بھارتی اقدامات اور آرٹیکل 370 سے متعلق آئینی تبدیلیوں پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ ان اقدامات نے مسئلہ کشمیر کو مزید پیچیدہ بنا دیا ہے۔ انہوں نے قائداعظم محمد علی جناح کے کشمیر کو پاکستان کی شہ رگ قرار دینے کے مقف کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ پاکستان کشمیری عوام کی سیاسی، سفارتی اور اخلاقی حمایت جاری رکھے گا۔ انہوں نے اقوامِ متحدہ اور عالمی برادری سے مطالبہ کیا کہ وہ خاموشی توڑیں، اپنی ذمہ داریاں پوری کریں اور کشمیری عوام کو اقوامِ متحدہ کی متعلقہ قراردادوں اور ان کی امنگوں کے مطابق حقِ خودارادیت دلانے کے لیے سنجیدہ اقدامات کریں۔واضع رہے کہ آج25کروڑپاکستانی کشمیریوں کے ساتھ یوم یکجہتی کے طورپر یوم سیاہ منارہے ہیں۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں