آئی ایم ایف 18

آئی ایم ایف کو کھربوں روپے کمرشل بینکوں سے سرکاری خزانے میں منتقل کرنے کی یقین دہانی

اسلام آباد (رپورٹنگ آن لائن) وزارت خزانہ کی جانب سے تقریباً ایک کھرب روپے سرکاری اداروں کے ذریعے کمرشل بینکوں کے کھاتوں میں رکھنے کے اعتراف کے بعد پاکستان نے بین الاقوامی مالیاتی فنڈ کو یقین دہانی کرائی ہے کہ وہ 70 نئے سرکاری اداروں کے اکاؤنٹس، جن میں اوسطاً 290 ارب روپے موجود ہیں، کو ٹریژری سنگل اکاؤنٹ (ٹی ایس اے) کے دائرے میں لے آئے گا۔

ذرائع وزارت خزانہ کے مطابق اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ آئی ایم ایف ٹی ایس اے سے باہر رکھے گئے فنڈز پر نظر رکھے ہوئے ہے اور حکام پر زور دے رہا ہے کہ وہ سرکاری رقوم کو حکومتی نظام سے باہر رکھنے کی پرانی روایت ترک کریں۔

دوسری جانب ارکانِ پارلیمنٹ 2019 میں منظور ہونے والے پبلک فنانس مینجمنٹ ایکٹ پر عملدرآمد نہ ہونے پر شدید برہمی کا اظہار کر رہے ہیں، پاکستان نے آئی ایم ایف کے ساتھ یہ وعدہ کیا ہے کہ وہ سرکاری اداروں کی نقد رقوم کو یکجا کرنے کے عمل کو جاری رکھے گا۔

حالیہ پارلیمانی کمیٹی کے اجلاس میں حکمران جماعت مسلم لیگ (ن) سے تعلق رکھنے والی سینیٹر انوشہ رحمان نے پبلک فنانس مینجمنٹ ایکٹ 2019 میں سرکاری ملکیتی اداروں (SOEs) کی تعریف نہ ہونے کا مسئلہ اٹھایا، جب وزارتِ خزانہ کے اعلیٰ حکام سے سینیٹرز نے سخت سوالات کیے تو ایڈیشنل سیکرٹری (بجٹ) نے تسلیم کیا کہ سرکاری اداروں نے ایک کھرب روپے کمرشل بینکوں میں جمع کروا رکھے ہیں، بجائے اس کے کہ انہیں ٹی ایس اے میں منتقل کیا جاتا۔

دوسری جانب وزارتِ خزانہ نے تحریری طور پر آئی ایم ایف کو بتایا ہے کہ پاکستان بہتر مالیاتی نظم و ضبط کیلئے فنڈز کو یکجا کرنے کی سمت میں آگے بڑھے گا۔ تسلسل کیلئے حکومت سیکٹرائزیشن اسٹڈی نہیں کرے گی بلکہ قانونی معیار اپنائے گی تاکہ ان اداروں کی نشاندہی کی جا سکے جنہیں ٹی ایس اے کے قواعد پر عمل کرنا ہوگا۔

اس وقت 70 نئے اکاؤنٹس، جن میں اوسطاً 290 ارب روپے موجود ہیں، یہ رقم ٹی ایس اے میں شامل کی جائے گی، جبکہ پہلے ہی 242 اکاؤنٹس میں 200 ارب روپے شامل ہیں۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں