ملک محمد احمد خان 57

یہ عام تاثر ہے خیبر پختوانخواہ حکومت ملک کو عدم استحکام سے دوچار کرنے ،انارکی پھیلانے کیلئے اقدامات کر رہی ہے’ ملک احمد خان

لاہور(رپورٹنگ آن لائن)اسپیکر پنجاب اسمبلی ملک محمد احمد خان نے کہاہے کہ یہ تاثر عام ہے کہ خیبر پختوانخواہ حکومت ملک کو عدم استحکام سے دوچار کرنے اور انارکی پھیلانے کے لئے اقدامات کر رہی ہے اور جب ایسا ہو تو پھر اس سے نمٹنے کے لئے آئین میں جو راستہ دیا گیا ہے اس کے مطابق ضرور سوچنا چاہیے ، اگر کسی کے گھر کو جلانا، سیاسی جماعت کے دفتر، بینکوں ،کورکمانڈرز کے گھروں ، قائد اعظم کی تصویر ، ریڈیو پاکستان کو جلاجا ، مساجد اور قرآن مجید کو شہید کرنا جرائم نہیں ہیں تو پھر ٹھیک ہے ۔

قومی کانفرنس برائے انٹر نیشنل ہیومن رائٹس ڈے کے حوالے سے تقریب میں شرکت کے موقع پر میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے اسپیکر پنجاب اسمبلی نے خیبر پختوانخواہ میں گورنر راج کے حوالے سے سوال کے جواب میں کہا کہ آئین میں ہر طرح کی صورتحال سے نمٹنے کے لئے لکھا ہوا ہے ، وہ صورتحال کیا ہو سکتی ہے اس کا جائزہ لینے کی ضرورت ہے ۔سب سے پہلے یہ دیکھنے کی ضرورت ہے کہ خیبر پختوانخواہ میں مینڈیٹ ہے یا نہیں تو اس میں کوئی دورائے نہیں ہے وہاں مینڈیٹ ہے ، لیکن سوال یہ ہے کہ وہ مینڈیٹ کس لئے ہے ،کیا وہ ملک کو عدم استحکام کا شکار کرنے کیلئے ہے تو عام تاثر یہی ہے ۔صوبائی حکومت اپنی گورننس کے فنکشنز پرفارم نہیں کر رہی اور اس کی ساری توانائیاں دارالخلافے پر حملہ کرنے کیلئے ہیں،

اس حکومت کی توانائی پولیس اور لوگوں کو ساتھ لے کر انارکی پھیلانے اور گھیرائو جلائو کرنے پر ہے تو پھر کچھ سوچنا چاہیے ،اسی طرح کی صورتحال سے نمٹنے کے لئے آپ کے پاس آئین میں واضح لکھا ہے ،کیا یہ حقائق نہیں ہے کہ اسلام آباد پر چار حملے ہو چکے ہیں ، آج تو بات کی جاتی ہے کہ عمران خان قید ہیں لیکن دیکھا جائے وہ کیوں قید ہیں،ان کے خلاف جو مقدمات ہیں کیا وہ میرے گھر کو جلانے پر نہیں ہیں ،مسلم لیگ (ن) جو ایک سیاسی جماعت ہے اس کے دفتر کو نہیں جلایا گیا ،یہ مقدمات عسکری بینک کو جلانے ، 29چھائونیوںپر ایک ہی دن میں ایسے لوگوں کو لا کر حملہ کرانا پر نہیں ہیں جو پاکستانی شہری بھی نہیں ، کور کمانڈرز کے گھروں میںآگ لگا دی ، کیا ان جرائم پر سزا یا کا فیصلہ نہیں ہونا چاہیے ،

پاکستان کے شہداء کی بے حرمتی جرم نہیں ہے ، ریڈیو پاکستان کی عمارت جو تحریک پاکستان کا سب سے بڑا آرکائیو ہے اس کو جلا کر راکھ کرنا جرم نہیں ، قائد اعظم کی تصویر ،جھنڈے کو جلانا جرائم نہیں،مسجد اور قران مجید کو شہید کرنا کیا یہ جرائم نہیں ہیں، اگر تو یہ جرائم نہیں ہے تو پھر ٹھیک ہے ، کیا کسی کے گھر کو جلانا سیاست ہو سکتی ہے ۔انہوں نے کہاکہ خیبر پختوانخواہ میں منتخب حکومت ہے اس کو کیسے دیوار سے لگا یا جا سکتا ہے ۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں