یوکرین 132

یوکرین میں مراکزِصحت پرروسی فوج کے 64حملے،ایک کروڑ80 لاکھ افرادمتاثر

نیویارک(رپورٹنگ آن لائن)عالمی ادارہ صحت(ڈبلیو ایچ او)نے انکشاف کیا ہے کہ روس کی یوکرین پر فوجی چڑھائی کے دوران میں 22مارچ تک مراکزِصحت پر 64 حملے کیے گئے ہیں۔اس طرح 25 روزہ جنگ کے دوران میں روزانہ دوسے تین حملے کیے گئے ہیں۔عالمی ادارے نے نظامِ صحت پران حملوں کی شدید الفاظ میں مذمت کی ہے۔میڈیارپورٹس کے مطابق ڈبلیوایچ او کے یوکرین میں نمایندے ڈاکٹرجرنو ہیبشٹ نے ایک بیان میں کہا کہ تحفظِ صحت کے نظام پرحملے بین الاقوامی قانون کی خلاف ورزی ہیں لیکن یہ پریشان کن حد تک جنگ کا حربہ ہیں۔ان سے اہم ڈھانچا تباہ ہوجاتا ہے لیکن بدترین امریہ ہے کہ ان سے امید دم توڑ دیتی ہے۔انھوں نے کہا کہ ان حملوں نے پہلے سے لاچارلوگوں کو نگہداشت سے محروم کردیا ہے اور یہی اکثر زندگی اور موت میں فرق ہوتا ہے۔ہیلتھ کیئر کوکبھی ہدف نہیں بنایا جانا چاہیے۔

ڈبلیو ایچ او کاکہنا تھا کہ یوکرین کے قریبا نصف دواخانے بند ہوچکے ہیں اور بہت سے طبی کارکنان خود دربدرہیں اور وہ کوئی کام نہیں کرسکتے ہیں۔مزیدبرآں قریبا ایک ہزار مراکزصحت مسلح تنازع کے محاذاول کے علاقوں یا محاصرہ زدہ شہروں میں واقع ہیں۔اس وجہ سے ان مراکز صحت تک ادویہ ،طبی ماہرین اورکارکنان کی آزادانہ رسائی ممکن نہیں رہی ہے۔دائمی امراض کا شکار افراد کے لیے مراکز صحت کم وبیش بند ہوچکے ہیں۔ڈبلیوایچ او نے اس صورت حال سے نمٹنے کے لیے یوکرین ،پولینڈ اورمالدووا میں بیس سے زیادہ ہنگامی میڈیکل ٹیمیں متعین کی ہیں اور وہ ان ملکوں میں زخمیوں اور دائمی مریضوں کے علاج کے لیے کارکنان خصوصی طبی تربیت دے رہی ہیں۔روس کے حملے کے بعد یوکرینیوں کوکرونا وائرس کی ویکسین لگانے کا عمل بھی رک چکا ہے۔اس سے پہلے قریبا پچاس ہزار افراد کو روزانہ ویکسین لگائی جارہی تھی۔تاہم 24 فروری سے 15مارچ تک صرف ایک لاکھ 75 ہزار افراد کو ویکسین لگائی جاسکی ہے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں