ملک محمد احمد خاں 18

یونیورسٹیاں مکالمے، تحقیق اور قومی تعمیر کا مرکز ہونی چاہئیں، تعلیمی عدم مساوات کا خاتمہ وقت کی ضرورت ہے’ ملک احمد خاں

گجرات(رپورٹنگ آن لائن )سپیکر پنجاب اسمبلی ملک محمد احمد خاں نے کہا ہے کہ یونیورسٹی محض ایک عمارت کا نام نہیں بلکہ یہ مختلف علوم کا مجموعہ اور فکری تربیت کا مرکز ہوتی ہے جہاں طلبہ کو سائنس، فلسفہ، سیاست، تحقیق اور عملی زندگی کے تقاضوں سے روشناس کرایا جاتا ہے، یونیورسٹیاں مکالمے، برداشت اور اختلافِ رائے کے احترام کو فروغ دینے کا اہم ترین پلیٹ فارم ہوتی ہیں۔

سپیکر پنجاب اسمبلی ملک محمد احمد خان نے صوبائی وزیر چودھری شافع حسین کے ہمراہ مکبر یونیورسٹی آف سائنس اینڈ ٹیکنالوجی گجرات کا باضابطہ افتتاح کیا۔ افتتاحی تقریب میں رانا جاوید اقبال، ممبران اسمبلی چوہدری عبداللہ یوسف، تشفین صفدر، راجہ اسلم خان، ڈاکٹر طارق سلیم اور چوہدری انصر ڈھول، پروفیسر عرفان احمد، افتخار احمد چیمہ سمیت طلبہ و طالبات، اساتذہ کرام اور مختلف سیاسی و سماجی شخصیات کی بڑی تعداد نے شرکت کی۔سپیکر ملک محمد احمد خاں نے یونیورسٹی کے جدید انفراسٹرکچر، تعلیمی بلاکس، اسپورٹس سہولیات، ہارس رائیڈنگ اور سوئمنگ جیسی سرگرمیوں کو سراہتے ہوئے کہا کہ ہمہ جہت تعلیمی ماحول نوجوانوں کی صلاحیتوں کو نکھارنے میں کلیدی کردار ادا کرتا ہے اور یہ ایک بڑی قومی خدمت ہے۔

انہوں نے کہا کہ تحقیق کے میدان میں مختلف نظریات سامنے آتے ہیں اور طلبہ کو کھلے ذہن کے ساتھ علم کے حصول اور سائنسی جستجو کو آگے بڑھانا چاہیے۔ ملک احمد نے زور دیا کہ تعلیمی اداروں میں ڈائیلاگ کی روایت کو مضبوط کیا جائے تاکہ نوجوان نسل مثبت اور تعمیری سوچ کے ساتھ قومی ترقی میں اپنا کردار ادا کر سکے۔ سپیکر ملک محمد احمد خاں نے مزید کہا کہ آئینِ پاکستان ریاست کو بنیادی تعلیم کی ذمہ داری دیتا ہے، تاہم اعلی تعلیم اور تحقیق کے فروغ میں نجی شعبہ بھی اہم کردار ادا کر رہا ہے۔ ترقی یافتہ ممالک میں یونیورسٹیاں تحقیق، سائنسی ایجادات اور زرعی و طبی ترقی کی قیادت کرتی ہیں اور حکومتیں انہیں وسائل اور فنڈز فراہم کرتی ہیں۔ پاکستان میں بھی ضروری ہے کہ تحقیق اور جدت کو قومی ترجیح بنایا جائے۔

سپیکر ملک محمد احمد خاں نے تعلیمی نظام میں پائے جانے والے عدم توازن پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ سرکاری اور نجی تعلیمی اداروں کے درمیان وسائل کا فرق ایک بڑی سماجی ناانصافی کو جنم دے رہا ہے۔ انہوں نے توقع ظاہر کی کہ مکبر یونیورسٹی سمیت نجی جامعات پسماندہ اور مستحق طلبہ کے لیے کم از کم 10 فیصد کوٹہ مختص کر کے سماجی ذمہ داری ادا کریں گی تاکہ باصلاحیت مگر محروم نوجوان بھی معیاری تعلیم حاصل کر سکیں۔ سپیکر ملک محمد احمد خاں نے کہا کہ موجودہ دور مصنوعی ذہانت اور جدید ٹیکنالوجی کا دور ہے، اس لیے ضروری ہے کہ نوجوانوں کو تحقیق، جدت اور سائنسی سوچ سے آراستہ کیا جائے۔ سپیکر ملک محمد احمد خاں نے یونیورسٹی انتظامیہ کی کاوشوں کو سراہتے ہوئے دعا کی کہ یہ ادارہ علمی میدان میں نمایاں مقام حاصل کرے اور قومی ترقی میں مثر کردار ادا کرے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں