بیجنگ (رپورٹنگ آن لائن) جرمن چانسلر فریڈرش میرس کے عہدہ سنبھالنے کے بعد چین کا پہلا سرکاری دورہ ایسے وقت میں ہوا ہے جب حالیہ مہینوں میں متعدد یورپی رہنما بھی بیجنگ کا رخ کر چکے ہیں۔ بین الاقوامی منظرنامے میں غیر یقینی کیفیت کے تناظر میں چین اور یورپ کے باہمی تعاون پر وسیع توجہ مرکوز ہے۔ سی جی ٹی این کے جاری کردہ عالمی سروے کے مطابق 83.9 فیصد جواب دہندگان کا خیال ہے کہ یورپی ممالک کا چین سے تعاون عالمی غیر یقینی صورتحال سے نمٹنے میں مددگار ثابت ہو سکتا ہے۔
حالیہ برسوں میں چین اور جرمنی کے درمیان سالانہ تجارت 200 ارب امریکی ڈالر سے زائد رہی ہے، جبکہ دوطرفہ سرمایہ کاری کا حجم 65 ارب ڈالر سے بڑھ چکا ہے۔ گزشتہ برس باہمی تجارت 292 ارب ڈالر تک پہنچی، جو سالانہ بنیاد پر 2.1 فیصد اضافہ ظاہر کرتی ہے، اور چین جرمنی کا سب سے بڑا تجارتی شراکت دار بن گیا۔ سروے میں 90.2 فیصد شرکاء نے کہا کہ چین کی وسیع منڈی جرمن اداروں کے لیے اہم مواقع فراہم کرتی ہے۔
دنیا کی دوسری اور تیسری بڑی معیشتوں کے طور پر دونوں ممالک تجارت کے ساتھ ساتھ ماحولیاتی تبدیلی، سبز توانائی اور ڈیجیٹل معیشت جیسے عالمی امور میں مشترکہ مفادات رکھتے ہیں۔ 83.6 فیصد افراد کے مطابق مستحکم اور صحت مند چین۔جرمنی تعلقات نہ صرف دونوں ممالک بلکہ مجموعی چین۔یورپی یونین تعاون کے لیے بھی اہم ہیں۔
سروے میں 79.8 فیصد نے کثیرالجہتی نظام اور آزاد تجارت کے فروغ کے لیے چین اور جرمنی کی مشترکہ کوششوں کی حمایت کی، جبکہ 92.3 فیصد کے نزدیک ابھرتی اور متوسط طاقتوں کے لیے چین سے تعاون لچک اور اثر و رسوخ بڑھانے کا مؤثر ذریعہ بنتا جا رہا ہے۔
یہ سروے سی جی ٹی این کے انگریزی، ہسپانوی، فرانسیسی، عربی اور روسی پلیٹ فارمز پر شائع کیا گیا، اور 24 گھنٹوں کے اندر کل 12,990 شرکاء نے اپنے خیالات کا اظہار کیا۔









