لاہور (رپورٹنگ آن لائن) لاہور ہائیکورٹ نے ہیلتھ کیئر کمیشن کے قانون اور اختیارات کے خلاف دائر درخواست ناقابل سماعت قرار دے کر خارج کرتے ہوئے واضح کیا کہ ہیلتھ کئیر کمیشن پرائیویٹ ہسپتالوں کی انسپکشن کرنے اور خلاف ورزیوں پر جرمانے کرنے کا اختیار رکھتا ہے۔
ہائیکورٹ کے جسٹس عاصم حفیظ نے شہری وقار یونس کی درخواست پر سماعت کی جس میں ہیلتھ کئیر کمیشن کے دائر اختیار کو چیلنج کیا گیا تھا۔دوران سماعت ہیلتھ کئیر کمیشن کی جانب سے ملک اختر جاوید ایڈوکیٹ پیش ہوئے ، جسٹس عاصم حفیظ نے درخواست گزار وکیل سے مکالمہ کرتے ہوئے کہا کہ آپ اپنی درخواست کی استدعا دیکھیں ،آپ نے سیشن جج لاہور کا آرڈر چیلنج کیا ہے اور پٹیشن میں پورے ہسپتالوں کا ڈیٹا منگوانے کی استدعا کردی ہے، آپ نے ہیلتھ کئیر کمیشن کے قانون اور اختیارات کو بھی چیلنج کردیا ۔
درخواست گزار وکیل نے جواب دیا کہ ہیلتھ کیئر کمیشن اپنے اختیارات سے کافی تجاوز کرتے ہیں ۔ملک اختر جاوید ایڈوکیٹ نے درخواست کے قابل سماعت ہونے پر اعتراض اٹھاتے ہوئے موقف اختیار کیا کہ ہیلتھ کیئر کمیشن ایکٹ 2010، رولز اور ریگولیشن کے مطابق انسپکشن کا اختیار حاصل ہے، خلاف ورزی پر ہیلتھ کیئر کمیشن جرمانہ کرنے کا بھی اختیار رکھتا ہے، قانون کے نیچے بنائی گئی کمیٹیوں کو کوئی بھی معاملہ سن کر فیصلہ کر نے کا اختیار حاصل ہے۔
جسٹس عاصم حفیظ نے درخواست گزار وکیل سے مکالمہ کرتے ہوئے کہا کہ اس حوالے سے میرا اپنا بھی فیصلہ ہے، عدالتی فیصلوں کو پڑھیں۔ بعد ازاں عدالت نے فریقین کے وکلاء کے دلائل سننے کے بعد درخواست ناقابل سماعت قرار دے کر خارج کر دی۔








