جسٹس عمر عطا بندیال 196

ہم نیب سے مطمئن نہیں ہیں،اس نے سرکاری افسروں کو دبایا اصل بنفشیریز کو پوچھا نہیں ،جسٹس عمر عطا بندیال

اسلام آباد(رپورٹنگ آن لائن) جسٹس عمر عطا بندیال نے باغ ابن قاسم کرپشن سے متعلق کیس کی سماعت کے دوران ریمارکس دیئے ہیں کہ ہم نیب سے مطمئن نہیں ہیں، یہ نہیں ہونا چاہیے کہ کسی نے مجھ پر مہربانی کی تو میں اس پر کروں،نیب نے سرکاری افسروں کو دبایا اصل بنفشیریز کو پوچھا نہیں۔ تفصیلات کے مطابق سپریم کورٹ میں باغ ابن قاسم کرپشن سے متعلق کیس کی سماعت کے دوران جسٹس عمر عطا بندیال نے کہا نیب پر سرکار کا ہی نہیں ہر طرف سے دبا وہوتا ہے۔

نیب کو بہادری اور اخلاقی جرات کا مظاہرہ کرنا چاہیے۔ جسٹس مظاہر علی اکبر نقوی نے کہا ملک کے ساتھ نیب کیا کر رہا ہے؟ کرتا نیب ہے بھگتتی سپریم کورٹ ہے۔ ملزم کو چھوڑنے کا الزام سپریم کورٹ پر آتا ہے۔ نیب ہمیں ٹرک کی بتی کے پیچھے نہ لگائے، نیب چھوٹے افسران کو پکڑ لیتاہے اصل فائدہ لینے والے کو نہیں پکڑتا۔ نیب کے پاس اپنی مرضی سے کام کرنے کا اختیار نہیں۔

انہوں نے کہا کہ قانون کا اطلاق سب پر برابر ہونا چاہیے، احتساب بھی قانون کے مطابق ہونا چاہیے۔ احتساب قانون کے مطابق نہیں ہوگا تو ادارے کیخلاف ایکشن لیں گے۔ جسٹس عمر عطا بندیال نے ریمارکس دیئے یہ نہیں ہونا چاہیے کہ کسی نے مجھ پر مہربانی کی تو میں اس پر کروں۔ جسٹس سجاد علی شاہ نے کہا سپریم کورٹ کا نیب کے بارے میں یہ تاثر ہے تو عام آدمی کا کیا ہوگا؟ نیب بڑے آدمی پر ہاتھ نہیں ڈالتا۔

انہوں نے کہا نیب کو پتہ ہے زین ملک کے لیے این او سی لانا مشکل ہے۔ زین ملک اگر این او سی لے آئے تو پھر آپ جاری کرنے والوں کو مقدمے میں گھسیٹیں گے۔ پراسیکیوٹر نیب نے بتایا کہ این او سی آیا تو جاری کرنے والے کو مقدمے میں شامل کریں گے۔ جسٹس سجاد علی شاہ نے استفسار کیا کہ تو پھر نیب نے مرکزی ملزم کو 15 فروری تک کی مہلت کیوں دی؟ جسٹس عمر عطا بندیال نے ریمارکس دیے کہ سینیٹ سمیت مختلف فورم پر نیب پر بات ہو رہی ہے۔ نیب نے سرکاری افسروں کو دبایا اصل بنفشیریز کو پوچھا نہیں۔

جسٹس مظاہر علی نقوی نے کہا پہلا ریفرنس دوسرا ریفرنس یہ کیا مذاق بنایا ہوا ہے؟ معلوم ہے کہ نیب مقدمات عام فوجداری کیسز نہیں ہوتے۔ نیب جس کیخلاف شواہد ہوں اسے گرفتار نہیں کرتا اور سرکاری افسروں کو سب پہلے گرفتار کر لیتا ہے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں