لاہور ہائی کورٹ 57

ہائیکورٹ نے صحافیوں کو روڈا میں پلاٹس دینے کیخلاف درخواستیں واپس لینے کی بنیاد پر نمٹا دی ،حکم امتناعی بھی ختم

لاہور رپورٹنگ آن لائن) لاہور ہائیکورٹ نے صحافیوں کو راوی اربن ڈویلپمنٹ اتھارٹی (روڈا )میں پلاٹس دینے کے خلاف درخواستیں واپس لینے کی بنیاد پر نمٹا تے ہوئے حکم امتناعی بھی ختم کردیا۔ہائیکورٹ کے جسٹس سلطان تنویر احمد نے صلاح الدین سمیت دیگر کی درخواستوں پر سماعت کی ۔صوبائی وزیر اطلاعات و ثقافت عظمیٰ بخاری بھی عدالت کے روبرو پیش ہوئیں ۔دوران سماعت درخواست گزاروں کے وکیل نے استدعا کی کہ درخواستوں کو واپس لینا چاہتے ہیں ۔جس پر عدالت نے درخواستیں نمٹا تے ہوئے حکم امتناعی بھی ختم کردیا۔

بعد ازاں وزیر اطلاعات پنجاب عظمیٰ بخاری نے ہائیکورٹ کے باہر میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ لاہور کے تمام صحافیوں کو بہت بہت مبارکباد،ہماری محنت رنگ لے آئی ہے، الحمدللہ آج لاہور ہائیکورٹ سے روڈا پر حکم امتناعی کے ساتھ کیس بھی ختم ہوگیا، یہ معاملہ ایک عرصے سے عدالت میں زیرالتوا تھا آج اسٹے ختم ہوگیا۔ اس معاملے میں لاہور پریس کلب کے صدر ارشد انصاری نے بھی ہمارے ساتھ بہت تعاون کیا۔ انہوں نے کہا کہ لاہور پریس کلب کے ممبران کی لسٹ ہمارے پاس موجود ہے، جن کے نام لسٹ میں نہیں جو نان ممبر صحافی ہیں انکا دس سالہ تجربہ ہے تو وہ بھی درخواست دے سکتے ہیں ، جو صحافی 10 سال سے کسی ادارے کے ساتھ منسلک ہیں ان کو صرف اپنی ایک سال کی سیلری سلپ کے ساتھ درخواست دینی ہوگی۔

عظمیٰ بخاری نے کہا کہ ہم نے پلاٹوں کا سائز بھی ایک کردیا ہے، کوئی کیمرہ مین اچھوت نہیں ہے اور کوئی رپورٹر بڑا نہیں میرے لیے سب برابر ہیں، سب کو پانچ مرلے کے پلاٹ ملیں گے، 3200سے زیادہ صحافیوں کو پلاٹس ملیں گے۔ انہوں نے کہا کہ مریم نواز سب کی وزیراعلی ہیں، مجھے خوشی ہے کہ میں آج کچھ اچھا کرنے میں کامیاب ہوئی ہوں، ڈی جی پی آر کا بھی ہم نے 10 فیصد کوٹہ رکھ دیا ہے، ڈی جی پی آر کے ملازمین بھی اس میں اپنی درخواستیں دینے کے اہل ہوں گے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں