وفاقی وزیر قانون 160

کیس کے فیصلہ کی مدت 9ماہ کردی گئی ، ٹرائل جج کو بتا نا پڑے گا کہ 9ماہ میں فیصلہ کیوں نہیں ہوا،وفاقی وزیر قانون

اسلام آباد (رپورٹنگ آن لائن)وفاقی وزیر قانون بیرسٹر فروغ نسیم نے کہا ہے کہ قانون پر عملدرآمد وزیراعظم اور وزیر قانون نہیں عدالت اور وکلاءنے کرنا ہے ، پولیس بجٹ پولیس اسٹیشن نہیں جاتا ، پولیس بجٹ اوپر سے ہی کھا لیا جاتا ہے ، پولیس بجٹ اب ٹریکل ڈاون ہو کے پولیس اسٹیشن جائے گا ،سب انسپکٹر اور ایس ایچ او کے پاس بی اے کی ڈگری لازمی ہونی چاہیئے ، اصلاحات سے پولیس بجٹ پولیس اسٹیشن تک جائے گا،اب کیس کے فیصلہ کی مدت 9ماہ کردی گئی ہے، ٹرائل جج کو بتا نا پڑے گا کہ 9ماہ میں فیصلہ کیوں نہیں ہوا، نیب میں 20سال تک کیس عملے کی کمی کے باعث التوا ءکا شکار رہتے ہیں۔

جمعرات کو اسلام آباد میں فوجداری قانون اور نظام انصاف میں اصلاحات کی افتتاحی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے وفاقی وزیر قانون بیرسٹر فروغ نسیم نے کہا کہ فوجداری قانون میں اصلاحات کے حوالے سے آج تاریخی دن ہے فوجداری قانون اصلاحات میںوزیراعظم عمران خان کا خصوصی تعاون شامل تھا اسلام آباد ہائی کے چیف جسٹس نے ہماری رہنمائی کی ۔

انہوں نے کہا کہ ہمارے فوجداری قانونی اصلاحات پر بیرون ملک مقیم پاکستانی بھی بہت خوش ہیں ، ہم نے جون میں فوجداری قانونی اصلاحات کا ڈرافٹ دیاتھا ، شاہ محمود قریشی ،اعظم سواتی ، شبلی فرازاور علی محمد خان نے میری مددکی ،ٹرانسپیرنسی انٹرنیشنل میں پاکستان کا 140واں نمبر آیا ہے ، یہ نمبر رول آف لاءپر عملدرآمد نہ ہونے سے آیا ، وزیر قانون نے کہا کہ قانون پر عملدرآمد وزیراعظم اور وزیر قانون نے نہیں کرنا بلکہ قانون پر عملدرآمد عدالت اور وکلاءنے کرنا ہے ، پولیس بجٹ ہوتا ہے لیکن وہ پولیس اسٹیشن نہیں جاتا ، پولیس بجٹ اوپر سے ہی کھا لیا جاتا ہے ، پولیس بجٹ اب ٹریکل ڈاون ہو کے پولیس اسٹیشن جائے گا سب انسپکٹر اور ایس ایچ او کے پاس بی اے کی ڈگری لازمی ہونی چاہیئے ، اصلاحات سے پولیس بجٹ پولیس اسٹیشن تک جائے گا ان کا کہنا تھا کہ چالان پیش کرنے کی مدت 45دن کردی گئی ،

نیب قانون میں ہے کہ فیصلہ ایک مہینے میں کردیں گے ایک ماہ میں فیصلہ حقیقت میں ممکن نہیں اب کیس کا فیصلہ کی مدت 9ماہ کردی گئی ہے ٹرائل جج کو بتا نا پڑے گا کہ 9ماہ میں فیصلہ کیوں نہیں ہوا اپوزیشن کے ایک صاحب کہہ رہے تھے کہ 9ماہ میں کیسے فیصلہ ہوگا اگر آپ نے کچھ نہیں کیا تو آپ بری ہوجائینگے اس کا مطلب یہ ہوا کہ قانون میں اصلاحات نہیں چاہتے اپوزیشن کا مقصد پاکستانی عوام کے لئے آسانیاں پیدا کرنانہیں ہے نیب میں 20سال تک کیس عملے کی کمی کے باعث التوا ءکا شکار رہتے ہیں۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں