طلال چوہدری 18

کپتان ہونے سے کوئی قانون سے بالاتر نہیں ہوتا،کرکٹ کے سابق کپتانوں پر وزیر مملکت طلال چوہدری کا رد عمل

لاہور( رپورٹنگ آن لائن)پاکستان کے وزیر مملکت برائے داخلہ طلال چوہدری نے کہا ہے کہ پاکستان کا قانون اور نظام اس قدر اچھا ہے کہ کرکٹ کے سابق کپتانوں کے خط لکھے جانے سے پہلے ہی عمران خان کی صحت کے حوالے سے خدشات دور کر دئیے گئے تھے،پاکستان کی سپریم کورٹ نے اپنے زیر نگرانی ان تمام چیزوں کو ایڈرس کیا ہے۔

برطانوی نشریاتی ادارے کے مطابق انہوںنے کہاکہ عمران خان کو ایسی سہولتیں بھی دی گئی ہیں جو ایک سزا یافتہ قیدی کو نہیں ملتیں، یہ واحد قیدی ہے جسے پاکستان کی تاریخ میں سب سے زیادہ مراعات اور سہولیات دی گئی ہیں۔طلال چوہدری نے عمران خان کو پاکستان کی تاریخ کا موسٹ لکڈ آفٹر پرزنر قرار دیتے ہوئے کہا کہ سپریم کورٹ نے عمران خان کو دی گئی سہولیات اور علاج پر اطمینان کا اظہار کیا ہے۔سابق کپتانوں کے خط پر وزیر مملکت طلال چوہدری نے کہا کہ بہت اچھا ہوتا اگر کپتان یہ بھی لکھتے کہ جس طرح کرکٹ میں بال ٹمپرنگ اور جواء جرم ہے، اسی طرح اگر کوئی کپتان وزیر اعظم بن جائے تو کرپشن بھی جرم ہے، انہیںاس کی بھی مذمت کرنی چاہیے۔انہوں نے کہا کہ کپتان ہونا انسان کو قانون سے بالاتر نہیں کرتا، انہوں نے آدھا خط لکھا ہے،انہیںپوری بات لکھنی چاہیے تھی،انہیںاس بارے میں بھی افسوس ظاہر کرنا چاہیے تھا کہ وہ کرپشن کیس میں اس وقت سزا یافتہ ہیں۔

اس مطالبے پر کہ عمران خان کو ان کی مرضی کے ڈاکٹروں سے علاج کروانے کی اجازت دی جائے وزیر مملکت داخلہ طلال چوہدری نے کہا کہ سب کچھ قانون کے مطابق ہوتا ہے،مرضی والی تو کوئی بات نہیں ہوتی، کیا ان کے ملکوں میں قیدیوں کی اپنی مرضی چلتی ہے؟ ،قیدیوں کے لیے جیل مینوئل ہے، اس کے باوجود اس قیدی کا سب سے زیادہ خیال رکھا گیا ہے۔تو کیا حکومت پاکستان سابق کرکٹ کپتانوں کے خدشات دور کرنے کے لیے انہیںجوابی خط لکھنے کا ارادہ رکھتی ہے سوال کے جواب میں وزیر مملکت داخلہ طلال چوہدری نے کہا کہ نہیں، یہ انھیں خود دیکھنا چاہیے ہمیں کوئی ضرورت نہیں، ہم صرف پاکستان کے قانون کے سامنے جوابدہ ہیں۔اگرچہ سابق کپتانوں نے کہا ہے کہ انہوں نے سیاست سے بالاتر ہو کر انسانی حقوق کی خاطر یہ خط لکھا ہے تاہم طلال چوہدری نے کہا کہ بعض کپتانوں کے اپنے ملکوں میں انسانی حقوق کی صورتحال اتنی اچھی نہیں ہے، انہیں چاہیے کہ کرپشن کیس میں سزا یافتہ قیدی کی فکر کی بجائے اپنے ملکوں میں انسانی حقوق کی فکر کریں۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں